مضامین بشیر (جلد 4) — Page 465
مضامین بشیر جلد چہارم 465 لڑکے کے ساتھ کھیلتا ہوا اس حجرے میں پہنچ گیا اور چونکہ اس کمرے کی باہر کی کھڑکی کھلی تھی اور اس کھڑکی میں سے ہمارے چا یعنی حضرت مسیح موعود کے چچازاد بھائی مرزا نظام الدین صاحب کا مکان نظر آرہا تھا۔میں نے کسی بات کے تعلق میں اپنے ساتھ والے لڑکے سے کہا کہ دیکھو وہ نظام الدین کا مکان ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میرے یہ الفاظ کسی طرح سن لئے اور جھٹ پلٹ کر مجھے نصیحت کے رنگ میں ٹوک کر فرمایا کہ۔”میاں آخر وہ تمہارا چا ہے۔اس طرح نام نہیں لیا کرتے“۔(سیرت المہدی روایت نمبر 37) جیسا کہ میں دوسری جگہ بیان کر چکا ہوں مرزا نظام الدین صاحب ہمارے چچا ہونے کے باوجود حضرت مسیح موعود کے اشد ترین مخالف بلکہ معاند تھے۔اور اس مخالفت کی وجہ سے ان کا ہمارے ساتھ کسی قسم کا تعلق اور راہ و رسم نہیں تھا اور اسی بے تعلقی کے نتیجہ میں میرے منہ سے بچپن کی بے احتیاطی میں یہ الفاظ نکل گئے۔مگر حضرت مسیح موعودؓ کے اخلاق فاضلہ کا یہ عالم تھا کہ آپ نے مجھے فورا ٹو کا اور تربیت کے خیال سے نصیحت فرمائی کہ اپنے چا کا نام اس طرح نہیں لیا کرتے۔اور آج تک میرے دل میں حضور کی یہ نصیحت ایک آہنی شیخ کی طرح پیوست ہے اور اس کے بعد میں نے کبھی اپنے کسی بزرگ کا نام تو در کنار کسی خو دکا نام بھی ایسے رنگ میں نہیں لیا جس میں کسی نوع کی تحقیر کا شائبہ بھی پایا جائے۔ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ اپنے بچوں اور بچیوں کے حالات اور اقوال کا بڑی توجہ کے ساتھ جائزہ لیتے رہیں اور جہاں بھی وہ دیکھیں کہ ان کے اخلاق و عادات میں کوئی بات اسلام اور احمدیت کی تعلیم یا آداب کے خلاف ہے۔اس پر فوراً نوٹس لے کر اس کی اصلاح کر دیں کیونکہ بچپن کی اصلاح بڑا وسیع اثر رکھتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اکثر فرمایا کرتے تھے کہ الطَّريقَةُ كُلُّهَا اَدَب یعنی دین کا راستہ تمام کا تمام ادب اور تادیب کے میدان میں سے ہو کر گزرتا ہے۔کاش! ہر احمدی باپ اور ہر احمدی ماں اس سنہری نصیحت کو حرز جان بنالے۔15 اس تعلق میں ایک اور واقعہ بھی یاد آ گیا۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کو یہ اطلاع ملی کہ یہی مرزا نظام الدین جو حضرت مسیح موعود کے اشد ترین مخالف تھے بیمار ہیں۔اس پر حضور ان کی عیادت کے لئے بلا توقف ان کے گھر تشریف لے گئے۔اس وقت ان پر بیماری کا اتنا شدید حملہ تھا کہ ان کا دماغ بھی اس سے متاثر ہو گیا تھا۔آپ نے ان کے مکان پر جا کر ان کے لئے مناسب علاج تجویز فرمایا جس سے وہ خدا کے فضل سے صحت یاب ہو گئے۔ہماری اماں جان رضی اللہ عنھا بیان فرماتی تھیں کہ باوجود اس کے کہ مرزا نظام الدین صاحب