مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 463 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 463

مضامین بشیر جلد چهارم 13 463 ابھی ابھی حضرت مسیح موعود کی دعا سے ایک بد حال مریضہ کے شفا پانے کا ذکر کیا گیا ہے۔حضور کی زندگی میں ایسی معجزانہ شفایابی کی مثالیں ایک دو نہیں دس ہیں نہیں بلکہ حقیقتا بے شمار ہیں جن میں سے بعض حضور نے مثال کے طور پر اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں بیان فرمائی ہیں اور بعض لوگوں کے سینوں اور تحریری دستاویزات میں محفوظ ہیں۔ان میں سے اس جگہ میں صرف ایک بات نمونہ کے طور پر بیان کرتا ہوں۔جماعت کے اکثر دوست ہمارے چھوٹے ماموں حضرت میر محمد اسحق صاحب کو جانتے ہیں۔انہوں نے حضرت خلیفہ اول مولوی نورالدین صاحب سے اور بعض دوسرے احمدی علماء سے علم حاصل کیا اور پھر اپنی فطری ذہانت اور مشق اور ذوق و شوق کے نتیجہ میں جماعت کے چوٹی کے علماء میں داخل ہو گئے۔ان کا درس قرآن مجید اور درس حدیث سننے سے تعلق رکھتا تھا اور مناظرے کے فن میں تو انہیں ایسا ید طولی حاصل تھا کہ بڑے بڑے جبہ پوش مولوی اور عیسائی پادری اور آر یہ پنڈت ان کے سامنے بحث کے وقت طفلِ مکتب نظر آتے تھے۔انہی میر الحق صاحب کے بچپن کا ایک واقعہ ہے کہ ایک دفعہ وہ سخت بیمار ہو گئے اور حالت بہت تشویشناک ہوگئی اور ڈاکٹروں نے مایوسی کا اظہار کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے متعلق دعا فرمائی تو عین دعا کرتے ہوئے خدا کی طرف سے الہام ہوا کہ۔سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبِّ رَّحِيم ( بدر 11 مئی و الحکم 17 مئی 1905ء) یعنی تیری دعا قبول ہوئی اور خدائے رحیم و کریم اس بچے کے متعلق تجھے سلامتی کی بشارت دیتا ہے۔چنانچہ اس کے بعد جلد حضرت میر محمد الحق صاحب بالکل توقع کے خلاف صحت یاب ہو گئے اور خدا نے اپنے مسیح کے دم سے انہیں شفا عطا فرمائی اور اس کے بعد وہ چالیس سال مزید زندہ رہ کر اور اسلام اور احمدیت کی شاندار خدمات بجا لا کر اور ملک وملت میں بہت سی نیکیوں کا بیج بو کر قریباً پچپن سال کی عمر میں خدا کو ج پیارے ہوئے۔كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانلَ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَللِ وَالْإِكْرَامِ 0 (الرحمن : 27-28) مگر اس واقعہ کے تعلق میں ایک بہت عجیب بلکہ بے حد عجیب و غریب اور نہایت درجہ لطیف خدائی کرشمہ یہ ظاہر ہوا کہ جب چالیس سال کے بعد حضرت میر صاحب کی اجل مسٹمی کا وقت آگیا اور خدائی حکم کے ماتحت آسمان کے فرشتوں نے ان کا نام پکارا تو اس وقت یہ عاجز ان کے پاس ہی کھڑا تھا اور وہ قریباً نیم