مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 462 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 462

مضامین بشیر جلد چہارم 462 دفعہ بھی میری آنکھیں دُکھنے نہیں آئیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دم کی برکت سے میں اس تکلیف سے ہمیشہ بالکل محفوظ رہی ہوں، حالانکہ اس سے پہلے میری آنکھیں اکثر دکھتی رہتی تھیں اور میں بہت تکلیف اٹھاتی تھی۔وہ بیان کرتی ہے کہ جب حضرت مسیح موعود نے اپنا لعاب دہن لگا کر میری آنکھوں پر دم کرتے ہوئے اپنی انگلی پھیری تو اس وقت میری عمر صرف دس سال کی تھی۔گویا ساٹھ سال کے طویل عرصہ میں حضرت مسیح موعود کے اس روحانی تعویذ نے وہ کام کیا جو اس وقت تک کوئی دوائی نہیں کر سکی تھی۔دوستوں کو یا درکھنا چاہئے کہ دم کرنے کا طریق در اصل دعا ہی کی ایک قسم ہے جس میں قولی دعا کے ساتھ دعا کرنے والے کی آنکھوں کی توجہ اور اس کے لمس کی برکت بھی شامل ہو جاتی ہے اور یہ وہی طریقہ علاج ہے جو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی بعض حدیثوں میں بھی مذکور ہے اور جس کے ذریعہ حضرت عیسی بھی بعض اوقات اپنے مریضوں کا علاج کیا کرتے تھے۔چنانچہ کسی شاعر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی ) کی تعریف میں کیا خوب کہا ہے کہ۔حسن یوسف، دم عیسے، ید بیضا داری آنچه خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری یعنی تو یوسف جیسے بے مثال حسن کا مالک ہے اور تو مریضوں کو اچھا کرنے میں عیسے کے دَمِ شفا کی غیر معمولی تاثیر بھی رکھتا ہے اور تجھے موسے کی طرح وہ چمکتا ہوا ہاتھ بھی حاصل ہے جس نے فرعون اور اس کے ساحروں کی نظروں کو خیرہ کر دیا تھا۔پس لا ریب تیرے اندر وہ ساری خوبیاں جمع ہیں جو دنیا کے کسی انسان کو کسی زمانہ میں حاصل ہوئی ہیں۔دم کے طریقہ علاج کے متعلق یہ بات بھی ذکر کرنی ضروری ہے اور دوستوں کو یاد رکھنی چاہئے کہ گو یہ طریقۂ علاج آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گاہے گاہے کے عمل سے ثابت ہے مگر اسے کثرت کے ساتھ اختیار کرنا اور گویا منتر جنتر بنا لینا ہرگز درست نہیں۔کیونکہ بے احتیاطی کے نتیجہ میں اس سے بہت سی بدعتوں کا رستہ کھل سکتا ہے۔بہتر یہی ہے کہ جیسا کہ قرآن مجید نے فرمایا ہے دعا کا معروف طریق اختیار کیا جائے اور اگر کسی وقت دم کے طریقہ علاج کی ضرورت سمجھی جائے اس کی طرف زیادہ رغبت پیدا ہو تو ضروری ہے کہ کسی نیک اور متقی اور روحانی بزرگ سے دم کرایا جائے ورنہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے۔اندیشہ ہوسکتا ہے کہ برکت کی بجائے بے برکتی کا دروازہ کھل جائے۔