مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 461 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 461

461 12 مضامین بشیر جلد چهارم میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ خدائی رحمت کے چھینٹے گرنے کا ذکر کر رہا تھا۔یہ چھینٹا بلا امتیاز دوست و دشمن سب لوگوں اور سب طبیعتوں اور سب قوموں پر علی قدر مراتب گرتا تھا۔مگر طبعا یہ چھینٹا دوستوں پر زیادہ گرتا تھا لیکن دوسروں کے لئے بلکہ دشمنوں تک کے لئے بھی گاہے گا ہے نشانِ رحمت کے طور پر گرتا رہتا تھا۔ایک آریہ مخالف کے لئے تو اس رحمت کے چھینٹے کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔اب کابل سے آئی ہوئی ایک غریب مہاجر احمدی عورت کا ذکر بھی سن لو جس نے غیر معمولی حالات میں حضرت مسیح موعود کے دم عیسوی سے شفا پائی۔مسماۃ امتہ اللہ بی بی سکنہ علاقہ خوست مملکت کا بل نے مجھ سے بیان کیا کہ جب وہ شروع شروع میں اپنے والد اور چچا سید صاحب نور اور سید احمد نور کے ساتھ قادیان آئی تو اس وقت اس کی عمر بہت چھوٹی تھی اور اس کے والدین اور چا چی حضرت سید عبداللطیف صاحب شہید کی شہادت کے بعد قادیان چلے آئے تھے۔مسماۃ امتہ اللہ کو بچپن میں آشوب چشم کی سخت شکایت ہو جاتی تھی اور آنکھوں کی تکلیف اس قدر بڑھ جاتی تھی کہ انتہائی درد اور سرخی کی شدت کی وجہ سے وہ آنکھ کھولنے تک کی طاقت نہیں رکھتی تھی۔اس کے والدین نے اس کا بہت علاج کرایا مگر کچھ افاقہ نہ ہوا اور تکلیف بڑھتی گئی۔ایک دن جب اس کی والدہ اسے پکڑ کر اس کی آنکھوں میں دوائی ڈالنے لگی تو وہ ڈر کر یہ کہتے ہوئے بھاگ گئی کہ میں تو حضرت صاحب سے دم کراؤں گی۔چنانچہ وہ بیان کرتی ہے کہ میں گرتی پڑتی حضرت مسیح موعود کے گھر پہنچ گئی اور حضور کے سامنے جا کر روتے ہوئے عرض کیا کہ میری آنکھوں میں سخت تکلیف ہے اور در داور سرخی کی شدت کی وجہ سے میں بہت بے چین رہتی ہوں اور اپنی آنکھیں تک کھول نہیں سکتی۔آپ میری آنکھوں پر دم کر دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھا تو میری آنکھیں خطرناک طور پر ابلی ہوئی تھیں اور میں درد سے بے چین ہو کر کراہ رہی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی انگلی پر تھوڑا سا لعاب دہن لگایا اور ایک لمحہ کے لئے رُک کر (جس میں شاید حضور دل میں دعا فرما رہے ہوں گے ) بڑی شفقت اور محبت کے ساتھ اپنی یہ انگلی میری آنکھوں پر آہستہ آہستہ پھیر دی اور پھر میرے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا۔بچی جاؤ اب خدا کے فضل سے تمہیں یہ تکلیف پھر کبھی نہیں ہوگی روایت مسماة امۃ اللہ بی بی مہاجرہ علاقه خوست ) مسماة امتہ اللہ بیان کرتی ہے کہ اس کے بعد آج تک جبکہ میں ستر سال کی بوڑھی ہو چکی ہوں کبھی ایک