مضامین بشیر (جلد 4) — Page 459
مضامین بشیر جلد چهارم 459 اس الہام کی بناء پر نیز انبیاء کی عمومی سنت کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہمیشہ یہ خیال رہتا تھا اور حضور کبھی کبھی ذکر بھی فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں یا ہمارے بعد ہماری جماعت کو ایک دن قادیان سے ہجرت کرنی پڑے گی۔چنانچہ 1947ء میں آ کر حضور کا یہ الہام غیر معمولی حالات میں پورا ہوا اور وہ یہ کہ باوجود اس کے کہ ضلع گورداسپور کی آبادی میں اکثریت مسلمانوں کی تھی اور ملکی تقسیم کے متعلق سمجھوتہ یہ تھا کہ مسلمانوں کی اکثریت والے علاقے پاکستان کے حصہ میں ڈالے جائیں گے، فیصلہ کرنے والے افسروں نے قادیان کا علاقہ ہندوستان کے حصہ میں ڈال دیا اور جماعت کے خلیفہ اور جماعت کے کثیر حصہ کو کئی قسم کی تکلیفیں برداشت کر کے اور نقصان اٹھا کر اور قربانیاں دے کر پاکستان کی طرف ہجرت کرنی پڑی۔اور اس طرح ظاہری حالات اور توقعات کے بالکل خلاف حضرت مسیح موعود کا داغ ہجرت‘ والا الہام اپنی انتہائی تلخی کے ساتھ پورا ہوا اور اس پیشگوئی کی پہلی شاخ جو ہجرت سے تعلق رکھتی تھی حضرت مسیح موعود کی صداقت کا ایک زبر دست نشان بن گئی۔قادیان جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مولد ومسکن تھا اور وہیں حضرت مسیح موعود نے اپنی زندگی کے دن گزارے اور وہیں خدائے واحد کی عبادتیں کیں اور وہیں اپنی دعاؤں سے زمین و آسمان کو ہلایا اور وہیں حضور کا جسدِ مبارک اپنے بے شمار فدائیوں کے ساتھ اس دنیا کی آخری نیند سورہا ہے وہ ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔خدا کی یہ تقدیر بہر حال ایک بڑی تلخ تقدیر ہے اور جماعت کے لئے ایک زبر دست امتحان بھی ہے مگر اس کے ساتھ ہی یہ تقدیر آسمان سے یہ الارم بھی مسلسل دے رہی ہے کہ اب اس پیشگوئی کے دوسرے حصہ کے پورے ہونے کا وقت آ رہا ہے۔اس کے لئے گریہ وزاری سے دعائیں کرو اور خدا کی طرف سے نزول رحمت کے طالب بنو۔چنانچہ قادیان کی واپسی کے متعلق حضرت مسیح موعود کا ایک اور واضح الہام یہ ہے کہ إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَآدُكَ إِلى مَعَادٍ إِنِّي مَعَ الْأَفْوَاجِ آتِيكَ بَغْتَةً ( تذکرہ جدید ایڈیشن صفحہ 256) یعنی زمین و آسمان کا مالک خدا جس نے تجھ پر قرآن کی تبلیغ فرض کی ہے وہ تجھے ضرورضرور ایک دن تیرے وطن ( قادیان) کی طرف واپس لے جائے گا۔اور میں تیری مدد کے لئے اپنی فوجوں کے ساتھ اچانک پہنچوں گا۔یہ خدائے عرش کی وہ تقدیر ہے جو ہجرت والی پیشگوئی کی دوسری شاخ کے طور پر حضرت مسیح موعود کے قلب صافی پر نازل کی گئی اور انشاء اللہ وہ ضرور اپنے وقت پر پوری ہوکر رہے گی۔ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ