مضامین بشیر (جلد 4) — Page 458
مضامین بشیر جلد چهارم 458 عرصہ بعد قادیان میں فوت ہوئے۔اور باوجود اس کے کہ وہ آخر دم تک مذہبا کٹر آریہ رہے ان کی طبیعت پر حضرت مسیح موعود کی نیکی اور تقویٰ اور آپ کی خداداد روحانی طاقتوں کا اتنا گہرا اثر تھا کہ جب ملکی تقسیم کے وقت قادیان اور اس کے گرد و نواح میں شدید فسادات رونما ہوئے اور سکھوں اور ہندوؤں نے اپنے مظالم کے ذریعہ مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا اور بہت سے بے گناہ مسلمان مرد اور عور تیں اور بچے اور بوڑھے اور بعض احمدی بھی بڑی بے دردی کے ساتھ مارے گئے اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی اور جماعت کے اکثر دوست پاکستان کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے اور صرف وہی پیچھے رہ گئے جن کو جماعتی انتظام کے ماتحت مقدس مقامات کی آبادی کے لئے ٹھہرے رہنے کا حکم دیا گیا تھا تو اس وقت لالہ ملا وامل صاحب نے اپنے بیٹے لالہ داتا رام کو بلا کر نصیحت کی کہ۔وو دیکھو تم ہر گز احمد یوں کی مخالفت نہ کرنا کیونکہ مرزا صاحب نے پیشگوئی کی ہوئی ہے کہ ان کی جماعت قادیان پھر واپس آئے گی اور میں دیکھ چکا ہوں کہ جو بات مرزا صاحب کہا کرتے تھے وہ پوری ہو جایا کرتی تھی، ( مسل رپورٹ ہائے از قادیان) ایک کٹر آریہ کا اپنی انتہائی مخالفت کے باوجود یہ تأثر حضرت مسیح موعود کی صداقت اور آپ کی نیکی اور روحانی تاثیر کی زبر دست دلیل ہے۔وَالْفَضْلُ مَا شَهِدَتْ بِهِ الْأَعْدَاءُ۔11 لالہ ملا وامل صاحب سے تعلق رکھنے والی روایت کے سلسلہ میں جماعت احمدیہ کے اپنے مرکز قادیان سے نکلنے اور پھر واپس آنے کی پیشگوئی کا ذکر ضمنی طور پر اوپر گزر چکا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ پیشگوئی دراصل اپنے اندر غیر معمولی شان رکھتی ہے اور جب خدا کے فضل سے اس پیشگوئی کا دوسرا حصہ جو قادیان کی واپسی سے تعلق رکھتا ہے پورا ہو گا تو اس کی شان اور بھی زیادہ آب و تاب سے ظاہر ہوگی اور دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ نہ صرف غیب کے علم کی کنجی خدا کے ہاتھ میں ہے بلکہ ہر قسم کی قدرت اور تصرف اور تقدیر خیر وشر کی کلید بھی اُسی آسمانی آقا کے قبضہ میں ہے۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ عرصہ ہوا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ دل ہلا دینے والا الہام ہوا تھا کہ۔داغ ہجرت یعنی اے خدا کے مسیح! تجھے یا تیری جماعت کو ایک دن ہجرت کا داغ دیکھنا ہوگا۔( ستمبر 1894 ء بحوالہ تفخیذ الا ذہان جون وجولائی 1908ء)