مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 457 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 457

457 مضامین بشیر جلد چهارم بعد اس کا بیٹا عکرمہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں داخل ہو گیا اور اسلام کی بھاری خدمات سرانجام دیتا ہوا شہید ہوا۔احمدیت میں خدا کے فضل سے ایسی مثالیں سینکڑوں بلکہ ہزاروں ہیں کہ باپ مخالف تھا مگر بیٹے کو احمدیت کا عاشق زار بننے کی سعادت نصیب ہوئی۔حضرت مسیح موعود نے تمثیلی رنگ میں کیا خوب فرمایا ہے کہ۔دوگه بصلحت کشند و گاه به جنگ براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 125) یعنی کبھی تو لوگ تجھے صلح کے ذریعہ شکار کرتے ہیں اور کبھی جنگ کے طریق پر مارتے ہیں۔*10 اسی قسم کی شفقت و رحمت کا ایک واقعہ قادیان کے ایک آریہ لالہ ملا وامل صاحب کے ساتھ بھی پیش آیا۔لالہ صاحب نو جوانی کے زمانہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے مگر اپنے مذہبی اور قومی تعصب میں اتنے بڑھے ہوئے تھے کہ حضرت مسیح موعود نے انہیں کئی دفعہ خدا داد نشانوں کی گواہی کے لئے بلایا جوان کی آنکھوں کے سامنے گزرے تھے اور وہ ان کے چشم دید اور گوش شنید گواہ تھے مگر وہ ہمیشہ مذہبی تعصب کی وجہ سے شہادت دینے سے گریز کرتے رہے۔ایک دفعہ یہی لالہ ملا وامل صاحب دق کے مرض میں مبتلا ہو گئے اور حالت بالکل مایوسی اور نا امیدی کی ہو گئی۔اس پر وہ ایک دن بے چین ہو کر حضرت مسیح موعود کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی حالت بتا کر بہت روئے اور باوجود مخالف ہونے کے اُس اثر کی وجہ سے جو حضرت مسیح موعود کی نیکی کے متعلق ان کے دل میں تھا حضور سے عاجزی کے ساتھ دعا کی درخواست کی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ان کی یہ حالت دیکھ کر رحم آ گیا اور آپ کا دل بھر آیا اور آپ نے ان کے لئے خاص توجہ سے دعا فرمائی جس پر آپ کو خدا کی طرف سے الہام ہوا کہ۔بن جا! يَا نَارُ كُونِي بَرْداً وَّ سَلَامًا (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 277 نشان نمبر 117) یعنی اے بیماری کی آگ ! تو اس نوجوان پر ٹھنڈی ہو جا اور اس کے لئے حفاظت اور سلامتی کا موجب چنانچہ اس کے بعد لالہ ملا وامل صاحب بہت جلد اس خطرناک مرض سے جو ان ایام میں موت کا پیغام سمجھی جاتی تھی شفایاب ہو گئے اور نہ صرف شفایاب ہو گئے بلکہ سوسال کے قریب عمر پائی اور ملکی تقسیم کے کافی