مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 450 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 450

مضامین بشیر جلد چهارم 450 پیدا ہوتے چلے جائیں گے تا وقتیکہ اسلام کے کامل غلبہ کا دن آجائے اور دنیا پر ظاہر ہو جائے کہ فتح وظفر کی کلید خدا کے ہاتھ میں ہے اور یہ کہ اسلام کو اپنی اشاعت کے لئے کسی جبر وا کراہ کی ضرورت نہیں بلکہ وہ اپنے غیر معمولی حسن و جمال اور اپنی زبر دست روحانی قوت اور مسیح محمدی کی بے نظیر جمالی کشش کے زور سے دنیا کو فتح کرنے کی طاقت رکھتا ہے اور اسی آئینہ جمال کو میں انشاء اللہ اپنے اس مضمون میں بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ الْعَظِيمِ $50 حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ 13 فروری 1835ء کو جمعہ کے دن قادیان میں پیدا ہوئے۔یہ سکھوں کا زمانہ اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکومت کے آخری ایام تھے۔اس کے بعد 1876ء میں آپ کے والد حضرت مرزا غلام مرتضے صاحب کی وفات ہوئی اور گو اس سے پہلے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر وحی والہام کے نزول کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔لیکن اس وقت سے تو گویا خدائی رحمت کی تیز بارش مسلسل برسنی شروع ہو گئی اور والد کا سایہ اٹھتے ہی خدائی نصرت نے آپ کا ہاتھ مضبوطی کے ساتھ تھام لیا۔اس کے بعد مارچ 1882ء میں حضرت مسیح موعود کو ماموریت کا پہلا الہام ہوا ( براہین احمدیہ حصہ سوم صفحہ 238) جو اس عظیم الشان روحانی جہاد کا آغاز تھا جو آدم سے لے کر آج تک ہر مرسل یزدانی کے زمانہ میں ہوتا چلا آیا ہے لیکن اب تک بھی حضور نے بیعت کا سلسلہ شروع نہیں کیا تھا اور نہ ہی جماعت احمدیہ کی بنیاد قائم کی گئی تھی۔جماعت کی بنیاد بالآخر خدائی حکم کے ماتحت 1889ء کے ابتداء میں آکر قائم ہوئی اور گویا خدائی خدمت گاروں کی باقاعدہ فوج بھرتی ہونی شروع ہوگئی۔اس کے جلد بعد ہی حضور نے خدا سے الہام پا کر مسیح موعود اور مہدی معہود ہونے کا دعویٰ کیا جس پر چاروں طرف سے مخالفت کا ایسا طوفان اٹھا کہ الحفیظ والامان۔اور یہ مخالفت آپ کی تاریخ وفات تک جو 1908ء میں ہوئی برابر تیزی کے ساتھ بڑھتی چلی گئی اور ہر قوم آپ کی مخالفت میں حصہ لینے کو فخر مجھنے لگی اور جیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے خدا کی یہ از لی سنت پوری ہوئی کہ کوئی خدائی مصلح ایسا نہیں آتا جس کا انکار نہ کیا جاتا ہو اور ہنسی مذاق اور طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بنایا جاتا ہو۔(پس: 31) ماموریت کے الہام کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کچھ اوپر چھپیں سال زندہ رہے اور بیعت کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد آپ نے اس دنیا میں قریباً ہمیں سال گزارے جو قمری حساب سے قریباً اکیس سال کا زمانہ بنتا ہے اور یہ طویل زمانہ ایک طرف مخالفت کی انتہائی شدت اور دوسری طرف حضرت مسیح موعود