مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 441 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 441

مضامین بشیر جلد چهارم 441 (6) میں فدیہ کے متعلق بھی یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ فدیہ کی رعایت صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو بوجہ بھی بیماری یا ضعف پیری روزوں کی طاقت کھو بیٹھیں۔ورنہ اصل چیز روزہ ہی ہے۔پس جو دوست بوجہ معذوری فدیہ دینا چاہیں وہ اپنے کھانے کی حیثیت کے مطابق کھانے کی صورت میں یا نقد رقم کی صورت میں فدیہ ادا کر سکتے ہیں۔فدیہ خواہ اپنے پڑوس کے غریبوں کو ادا کر دیا جائے یا میرے دفتر میں یا کسی دوسرے مناسب دفتر میں مرکز کے غرباء کی امداد کے لئے بھیجا جا سکتا ہے اور جتنی جلدی بھجوا دیا جائے بہتر ہے تا کہ وقت پر غرباء کے کام آ سکے اور وہ رمضان کے مہینہ میں فائدہ اٹھا سکیں۔مرکز میں کافی غریب لوگ بستے ہیں۔(7) بالآخر میں اپنے دوستوں کو یہ خاص تحریک بھی کرنا چاہتا ہوں کہ جن دوستوں کو توفیق ملے اور وہ اس کے لئے فرصت اور طاقت پائیں انہیں کم از کم رمضان کا آخری عشرہ ربوہ میں آ کر گزارنا چاہئے۔ربوہ میں مسجد مبارک کے شب وروز رمضان کے مہینہ میں خاص طور پر بابرکت اور بار وفق اور شاندار ہوتے ہیں۔اس سے انشاء اللہ دوستوں کو دینی لحاظ سے بہت فائدہ پہنچے گا۔ایک دفعہ مجھے رمضان کے چند دن کسی باہر کے مقام پر گزارنے پڑے تو مجھے وہاں کا رمضان بہت بے جان سا نظر آیا جسے ربوہ کے رمضان کے ساتھ کوئی نسبت نہیں تھی۔دوسری طرف میں لنگر خانہ اور مہمان خانہ کے افسروں اور کارکنوں کو بھی یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ وہ رمضان میں روزہ دار مہمانوں کے آرام کا بہت خیال رکھیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مہمان نوازی کا اسوہ ملحوظ رکھ کر مرکز سلسلہ کے لئے جماعت میں کشش پیدا کریں اور ان کے لئے اچھا نمونہ بنیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کے ساتھ ہو اور ہمیں اپنی برکات اور رحمتوں سے نوازے اور اسلام اور جماعت کی ترقی کا رستہ کھولے۔آمِينَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ( محررہ 24 جنوری 1963ء) روزنامه الفضل 26 جنوری 1963ء) در پیشین اردو کا بلاک دوستوں کو چاہئے کہ اس روحانی خزانہ کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کریں مجھے محترم شیخ بشیر احمد صاحب سینئر ایڈووکیٹ لاہور و سابق حج ہائی کورٹ نے در نشین اردو کا ایک نسخہ