مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 431 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 431

مضامین بشیر جلد چهارم 431 الصَّادِقِینَ۔یعنی نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرو۔پس انصار اللہ میں سے جو بزرگ صحابی ہونے کا شرف رکھتے ہیں ان کو خصوصاً اور جو انصار اللہ غیر صحابی ہیں مگر انہیں احمدیت کے طفیل نیکی کا زیادہ ورثہ ملا ہے ان کو عموماً اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ ان کی آئندہ نسل نیک ہو۔نمازوں کی عادی ہو۔دعاؤں میں شغف رکھے اور خلافت اور مرکز کے ساتھ محبت اور اخلاص اور قربانی کے مقام پر قائم ہو۔اگر یہ نہیں تو کچھ بھی نہیں اور جماعت کا آئندہ قدم ایک گڑھے کی طرف اُٹھے گا اور پھر خدا ہی اس کا حافظ ہے۔مالی قربانی مجھے انصار اللہ کو چندوں کی تحریک کے متعلق کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں۔وہ خدا کے فضل سے پختہ عمر کے لوگ ہیں اور جماعتی ذمہ داری کو سمجھتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ یہ زمانہ بھی ایسا ہے کہ مالی قربانی کے بغیر جماعتی انتظام کو چلانا اور جماعت میں تبلیغ اور تربیت کا انتظام کرنا اور ہر جہت سے پختہ تنظیم قائم کرنا محالات میں سے ہے۔قرآن مجید نے اپنی بالکل پہلی آیات میں ہی کمال دانشمندی سے عملی نیکیوں کا یہی خلاصہ بیان کیا فرمایا ہے کہ يُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنهُم يُنفِقُونَ - یعنی سچے مومن وہ ہیں اور صرف وہی سچے مومن سمجھے جا سکتے ہیں جو اپنی نمازوں کو پوری پابندی اور پورے شرائط کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور جو رزق ان کو ہم نے دے رکھا ہے ( اور رزق دینے والا یقیناً خدا ہی ہے ) اس میں سے دین کے رستہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ جو احمدی مضبوطی کے ساتھ ان دو نیکیوں پر قائم ہو جائے گا یعنی دلی ذوق و شوق کے ساتھ نماز پڑھے گا اور دعاؤں میں شغف رکھے گا جو خدا کے ذاتی تعلق کی مضبوط ترین کڑی ہے۔اور پھر وہ جماعت کے کاموں کے لئے محبت اور اخلاص کے ساتھ مالی قربانی بھی کرے گا جو جماعتی تنظیم کا سب سے بڑا رکن ہے وہ خدا کے فضل سے ایک مضبوط قلعہ میں داخل ہو جائے گا جس میں نقب لگنے کا کوئی امکان نہیں۔خدا کرے کہ ہم سب ایسے ہو جائیں کہ ایک طرف تو ہم ہمیشہ خدا کی رحمت کے دامن کے ساتھ لیٹے رہیں اور دوسری طرف جماعت کے ساتھ ہمارا تعلق ایسا مضبوط اور مخلصانہ ہو کہ ہم اس کی خاطر کسی قربانی سے دریغ نہ کریں۔بس اسی پر میں اپنے اس خطاب کو ختم کرتا ہوں وَ كَانَ اللَّهُ مَعَنَا أَجْمَعِينَ۔( محرره 26 اکتوبر 1962ء) (ماہنامہ انصار اللہ ربوہ نومبر 1962ء)