مضامین بشیر (جلد 4) — Page 407
مضامین بشیر جلد چهارم 407 متعد دارشادات میں اس کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی ہے۔پس اب جبکہ یہ درس گاہ ایک نئے دور میں داخل ہورہی ہے اس کی استانیوں اور طالبات دونوں کو چاہئے کہ پوری ہمت اور عزم اور استقلال کے ساتھ اس نئے دور کو شروع کریں اور اپنی کوششوں کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا فضل چاہتے ہوئے اس درس گاہ کو ایک مثالی درس گاہ بنا دیں جو تعلیم کے لحاظ سے بھی مثالی ہو اور تربیت کے لحاظ سے بھی مثالی ہو اور نتائج کے لحاظ سے بھی مثالی ہو اور نظم وضبط کے لحاظ سے بھی مثالی ہو اور اخلاقی ماحول کے لحاظ سے بھی مثالی ہو۔یہ تو ظاہر ہے کہ پڑھانے والیوں اور پڑھنے والیوں میں بہت گہرا رابطہ قائم ہونا چاہئے تا کہ وہ ایک خاندان کے طور پر زندگی گزاریں۔پڑھانے والیاں ہر لحاظ سے پڑھنے والیوں کے لئے نمونہ بنیں اور پڑھنے والیاں اس ذوق اور شوق کے ساتھ کام کریں جو اعلیٰ ترقی تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر کسی قوم کی عورتوں میں بیداری اور حقیقی ترقی کے آثار پیدا ہو جائیں اور وہ ماحول کے بداثرات سے بچ کر رہیں تو عورتیں ملک وقوم کی ترقی میں بڑا اثر پیدا کر سکتی ہیں۔آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں بعض نیک اور خادم دین عورتوں نے حیرت انگیز کارنامے سرانجام دیئے ہیں۔مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت ام سلمی کے نام نامی کو کون نہیں جانتا۔ان بزرگ خواتین نے اپنی عقل و دانش کے ذریعہ امت کی بعض ایسی گتھیاں سلجھائی ہیں جن میں مردوں کی عقل نا کام ہو کر رہ گئی تھی۔یہی مواقع آپ کے لئے بھی میسر ہیں بشرطیکہ آپ اپنے علم وعمل کو اس معیار تک پہنچا دیں جو قوموں کی زندگی میں انقلاب پیدا کر دیا کرتا ہے۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو اور خدا کرے کہ آپ قیامت کے دن ایسی ثابت ہوں جن کے نیک کاموں پر آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام محبت کے ساتھ فخر کر سکیں۔آمِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ والسلام خاکسار مرزا بشیر احمد (1962127) روزنامه الفضل 9 نومبر 1962ء)