مضامین بشیر (جلد 4) — Page 379
مضامین بشیر جلد چہارم 379 کہ حضور کی بیماری کی وجہ سے جماعت نے اس اہم ارشاد کی طرف پوری توجہ نہیں دی اور اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے میں بہت سستی سے کام لیا ہے جس کے نتیجے میں بے پردگی کی رو ملک میں اور نتیجتاً جماعت میں بھی بڑھتی جارہی ہے۔جماعت کے دوستوں کو عموماً اور مقامی امراء اور سیکرٹری صاحبان کو خصوصا چاہئے کہ حضور کے اس ارشاد کی طرف خاص توجہ دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ مقام ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے الہاماً فرمایا يُخي الدِّينَ وَيُقِيمُ الشَّرِيعَةَ۔یعنی مسیح موعود دین کو زندہ کرے گا اور شریعت کے احکام کو قائم کرے گا۔تو پھر کتنے افسوس کی بات ہے کہ خود جماعت کے بعض افراد پردہ کے معاملہ میں کمزوری دکھا کر جماعت کی بدنامی کا موجب بنیں اور شریعت کو قائم کرنے کی بجائے ماحول کے بُرے اثرات کے ماتحت آنوں بہانوں سے شریعت کے احکام کو ٹالیں۔میں نے اب اس معاملے میں ناظر صاحب امور عامہ اور ناظر صاحب اعلیٰ کو توجہ دلائی ہے کہ وہ حضرت صاحب کے خطبے کا مطالعہ کر کے اُسے جماعت میں مضبوطی کے ساتھ قائم کرنے کی کوشش کریں۔اور جو لوگ باوجود سمجھانے کے نہ مانیں ان کے خلاف اولاً مقامی طور پر مناسب ایکشن لیں اور پھر مرکز میں مناسب کارروائی کے لئے رپورٹ کریں۔اس معاملہ کی اہمیت کے پیش نظر میں نے نظارت امور عامہ اور نظارت علیا کو یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ مرکز کی طرف سے ایکشن لینے کے لئے معاملہ صرف نظارت امور عامہ پر نہ چھوڑا جائے بلکہ اس کے لئے ایک کمیٹی بنادی جائے جس کے ممبر (1) ناظر صاحب اعلیٰ (2) ناظر صاحب اصلاح وارشاد (3) ناظر صاحب امور عامہ ہوں۔یہ کمیٹی ہر رپورٹ پر حالات کا جائزہ لینے کے بعد حضور کے ارشاد کی روشنی میں مناسب ایکشن لینے کا فیصلہ کیا کرے۔مگر موجودہ حالات میں جماعت کے عالمگیر مشن اور جماعت کی عالمگیر وسعت کے پیش نظر میں نے یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ فی الحال اس قسم کا ایکشن صرف پاکستانی اور ہندوستانی احمد یوں تک محدود رکھا جائے۔امید ہے کہ ضلع وار امراء اور مقامی امراء اور مقامی سیکرٹریان اور مقامی اصحاب اس معاملہ میں تعاون کر کے جماعت میں نیکی کو ترقی دینے اور نیک نامی کا دروازہ کھولنے میں مدد دیں گے۔اللہ تعالیٰ