مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 378 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 378

مضامین بشیر جلد چهارم 378 ہوں تا کہ محنت ضائع نہ جائے اور اچھا نتیجہ پیدا ہو۔(4) درخت لگانے سے پہلے زمین کو اچھی طرح گڑھے وغیرہ کھود کر تیار کیا جائے۔یونہی چند انچ زمین کھرچ کر پودا نصب کردینا بالکل بے سود ہے۔(5) درخت لگانے کے بعد کافی عرصہ تک جب تک کہ پورا پوری طرح قائم نہ ہو جائے اس کی آبپاشی وغیرہ کے ذریعہ حفاظت کی جائے۔یہ ایک بڑے صبر اور دیکھ بھال کا کام ہے اور پودے کے اردگرد جانوروں اور بچوں کی تباہی سے بچانے کے لئے کانٹوں کی باڑ لگا دی جائے۔ورنہ یہ وہ بات ہوگی کہ ایک عورت نے بڑی محنت سے سوت کا تا اور پھر اپنے ہاتھ سے اسے کاٹ دیا۔قرآن فرماتا ہے؟؟ تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ۔(6) پودے لگانے کی مہم میں اپنے کمزور اور کم علم ہمسایوں کے ساتھ پوری طرح تعاون کیا جائے تا کہ جماعتی تنظیم کا حق ادا ہو۔روزنامه الفضل 8 اگست 1962ء) پردے کے متعلق ایک ضروری اعلان بے پردگی کے متعلق ملک میں رجحان بہت بڑھ رہا ہے اور بدقسمتی سے بعض کمز ور طبیعت کے احمدی بھی اس رو میں بہتے جا رہے ہیں۔خاص طور پر کالجوں میں تعلیم پانے والی لڑکیاں اس غیر اسلامی مرض کا زیادہ شکار ہو رہی ہیں۔اسی طرح پاکستان افواج کے افسر بھی اپنی بیویوں کو بے پردگی کی طرف مائل کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں اور بعض لوگ جن کے دلوں پر ابھی تک اسلام کی تعلیم کا رعب کچھ نہ کچھ باقی ہے وہ اسلامی پردے کی غلط تشریح کر کے بے پردگی کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں۔غیر از جماعت لوگ تو عموماً ہمارے اثر کے نیچے نہیں اور نہ ہم ان پر کوئی پابندی لگا سکتے ہیں مگر تین سال ہوئے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک زوردار خطبے میں جماعت کو بے پردگی کے رجحان کے خلاف توجہ دلائی تھی اور جماعت کے ذمہ دار لوگوں کو اس بات کا پابند کیا تھا کہ وہ جہاں کہیں بھی کسی احمدی عورت یا لڑکی کو بے پردگی کا مرتکب دیکھیں تو مناسب طور پر اس کے والدین اور خاوندوں اور بھائیوں کو توجہ دلائیں اور اگر پھر بھی وہ توجہ نہ کریں تو ان کے خلاف سخت جماعتی ایکشن لیا جائے۔حضور کا یہ خطبہ روز نامہ الفضل میں بھی چھپ چکا ہے اور علیحدہ ٹریکٹ کی صورت میں بھی شائع ہو چکا ہے۔مگر افسوس ہے