مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 373 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 373

مضامین بشیر جلد چہارم 373 تحریک پر فیصلہ ہوا تھا کہ ربوہ میں قادیان کی طرح ایک دار الیتامی قائم کیا جائے تا کہ جماعت کے یتیم اور نادار بچے اس دار الیتامی میں قیام کر کے جماعتی نگرانی کے ماتحت تعلیم پاسکیں اور ان کی تربیت کا بھی تسلی بخش انتظام ہو سکے اور ملک صاحب موصوف نے اس کی ابتدائی امداد کے لئے اپنی طرف سے دو ہزار روپے کا گرانقدر چندہ پیش کرنے کے علاوہ دیگر متفرق امداد کا بھی وعدہ کیا تھا۔چنانچہ میری تجویز کے مطابق عزیز میر داؤد احمد صاحب پرنسپل جامعہ نے مجلس مشاورت میں اس ادارے کی نگرانی منظور کی اور اب وہ ملک عبداللطیف صاحب کی مدد کے ساتھ اس کے ابتدائی انتظامات کی تیاری اور تکمیل میں مصروف ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے ان دونوں عزیزوں کو ثواب دارین سے نوازے اور ان کا حافظ و ناصر ہو۔دوستوں کو یاد ہوگا کہ قادیان میں یہ ادارہ دارالشیوخ کے نام سے ہمارے ماموں حضرت میر محمد الحق صاحب مرحوم کی زیر نگرانی قائم تھا جن کے نیک اوصاف اور خدمت دین کی یاد اب تک مخلصین جماعت کے دلوں کو گرماتی ہے اور خود ملک عبداللطیف صاحب بھی اسی ادارے کے ایک ہونہار اور وفادار فارغ التحصیل ہیں۔پس اب جبکہ احمدیت کے بطل جلیل حضرت میر محمد اسحاق صاحب مرحوم کے قائم کردہ ادارے کی یاد تازہ کی جارہی ہے تو جماعت کے مخیر اصحاب کا فرض ہے کہ اسے کامیاب بنانے میں دل کھول کر چندہ دیں اور جماعت کے تیموں کی تعلیم و تربیت میں حسب توفیق حصہ لے کر ثواب دارین حاصل کریں۔اسلام نے یتامی کی خدمت اور تربیت پر بہت زور دیا ہے حتی کہ رسول پاک صلے اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ۔أَنَا وَ كَافِلُ الْيَتِيمِ كَهَاتَيْن (سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی من ضم الیتیم ) یعنی میں اور یتیموں کی کفالت کرنے والا قیامت کے دن اس طرح ہوں گے جس طرح کہ میرے ہاتھ کی یہ دو انگلیاں ایک دوسرے کے ساتھ پیوست ہیں۔ویسے بھی تعلیم و تربیت کے عدم انتظام کی وجہ سے جماعت کے یتیم بچوں کا ضائع ہونا ایک بھاری قومی نقصان ہے کیونکہ عین ممکن ہے کہ ان گدڑیوں میں کو ئی لعل پوشیدہ ہوں۔پس دوستو ! آگے آؤ اور اس مفید اور ضروری ادارے کے قیام اور استحکام میں مدد دے کر قیامت کے دن رسول پاک کی رفاقت کا رتبہ پاؤ اور جماعت کے قدم کو آگے بڑھانے میں مدد دو کہ اس سے بڑھ کر ایک مومن کے لئے کوئی اور نعمت اور کوئی خدمت نہیں۔مجھے بتایا گیا ہے کہ گو یہ ادارہ بنیادی طور پر صرف قتیموں کی کفالت کے لئے قائم کیا جا رہا ہے مگر اس