مضامین بشیر (جلد 4) — Page 349
مضامین بشیر جلد چهارم 349 اور اس کی روح پر قائم رہنا ہم سب کا مشترکہ کام ہے۔خدا کرے کہ ہم اس ذمہ داری کو ایسے رنگ میں ادا کرنے کی توفیق پائیں جو قیامت کے دن خدا کی رضا اور رسول اکرم صلے اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سرخروئی کا موجب ہو۔اور ہماری ناچیز کوششوں میں خدا ایسی فوق العادت برکت ڈالے کہ ان کے ذریعہ اسلام کو پھر وہ شان و شوکت اور وہ چمک دمک اور وہ غلبہ اور سر بلندی حاصل ہو جائے جو اسے پہلے زمانہ میں حاصل ہوئی تھی بلکہ اس سے بھی بڑھ کرتا کہ ہمارے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قدم اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے دور میں آگے ہی آگے اٹھتا چلا جائے۔اور خدا کا یہ فرمان کامل آب و تاب کے ساتھ پورا ہو کہ لَلآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الأولى - أمِين يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ - وَ أخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ - محررہ 27 دسمبر 1961ء) روزنامه الفضل 19 جنوری 1962ء) 6 فدیہ دینے والے احباب توجہ فرمائیں رمضان کا مبارک مہینہ آرہا ہے کیا ہی بابرکت ہوں گے وہ لوگ جنہیں اس مہینہ میں اخلاص اور نیکی اور تقویٰ کی روح کے ساتھ روزے رکھنے اور خاص عبادت اور دعاؤں کی توفیق حاصل ہو۔قرآن فرماتا ہے و أَن تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمُ۔لیکن اگر کسی بھائی یا بہن کو بی بیماری یا بڑھاپے کی حقیقی معذوری کی وجہ سے روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو تو اس کے لئے ہمارے رحیم و کریم آسمانی آقا نے روزے کی جگہ فدیہ ادا کرنے کی اجازت دی ہے اور کچی نیت سے فدیہ ادا کرنے والا جو بہانہ خوری سے کام نہ لیتا ہو خدا سے وہی اجر پائے گا جور وزہ دار کو ملتا ہے کیونکہ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔پس ہر شخص اپنے نفس کا محاسبہ کر کے روزے یا فدیہ کا فیصلہ کرے۔اگر وہ روزے کی طاقت رکھتے ہوئے روزے کو ٹالتا ہے تو وہ مجرم ہے لیکن اگر وہ حقیقتا معذور ہے تو وہ خدا کے نزدیک قابل معافی ہے بلکہ اگر اس کی نیت پاک ہے اور معذوری حقیقی ہے تو وہ اجر کا مستحق ہوگا۔مگر یا درکھنا چاہئے کہ فدیہ صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو لمبی بیماری یا بڑھاپے کے ضعف کی وجہ سے روزہ رکھنے سے حقیقتا معذور ہو چکے ہوں۔ورنہ عارضی بیماری کی صورت میں عِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ کا حکم ہے