مضامین بشیر (جلد 4) — Page 348
مضامین بشیر جلد چهارم 348 خاص وحی کے ذریعہ جماعت کی آئندہ ترقی کے متعلق دی ہیں۔بے شک خدائی سنت کے مطابق درمیان میں بہت سے ابتلاء آئیں گے اور کئی قسم کے فتنے سر اٹھائیں گے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بڑی تحدی کے ساتھ فرماتے ہیں کہ جو لوگ آخر تک صبر اور استقلال سے کام لیں گے اور اپنی وفاداری میں کوئی رخنہ پیدا نہیں ہونے دیں گے وہ خدا کے فضل سے بالآخر کامیاب اور غالب ہوں گے۔اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔چنانچہ میں اس جگہ حضور کے رسالہ الوصیۃ سے ایک اقتباس پیش کرتا ہوں دوست غور سے سنیں کہ یہ الفاظ ایک طرح سے حضور کے آخری الفاظ ہیں جو جماعت کے لئے وصیت کے رنگ میں لکھے گئے۔حضور فرماتے ہیں۔”خدا فرماتا ہے کہ میں اس جماعت کو جو تیرے پیر وہیں قیامت تک دوسروں پر غلبہ دوں گا۔سوضرور ہے کہ تم پر میری جدائی کا دن آوے تا بعد اس کے وہ دن آوے جو دائمی وعدہ کا دن ہے۔وہ ہمارا خدا وعدوں کا سچا اور وفا دار اور صادق خدا ہے۔وہ سب کچھ تمہیں دکھائے گا جس کا اس نے وعدہ فرمایا۔۔ضرور ہے کہ یہ دنیا قائم رہے جب تک کہ وہ تمام باتیں پوری نہ ہو جائیں جن کی خدا نے خبر دی۔میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے وہی میرا خدا تمہارا خدا ہے پس اپنی پاک قوتوں کو ضائع مت کرو۔اگر تم پورے طور پر خدا کی طرف جھکو گے تو دیکھو میں خدا کی منشاء کے موافق تمہیں کہتا ہوں کہ تم خدا کی ایک قوم برگزیدہ ہو جاؤ گے۔۔۔یہ مت خیال کرو کہ خدا تمہیں ضائع کر دے گا۔تم خدا کے ہاتھ کا ایک بیج ہو جو زمین میں بویا گیا۔خدا فرماتا ہے کہ یہ پیج بڑھے گا اور پھولے گا اور ہر ایک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی اور ایک بڑا درخت ہو جائے گا۔پس مبارک وہ جو خدا کی بات پر ایمان رکھے اور درمیان میں آنے والے ابتلاؤں سے نہ ڈرے کیونکہ ابتلاؤں کا آنا بھی ضروری ہے تا خدا تمہاری آزمائش کرے۔۔۔مگر وہ سب لوگ جو اخیر تک صبر کریں گے اور ان پر مصائب کے زلزلے آئیں گے اور حوادث کی آندھیاں چلیں گی اور قو میں ہنسی اور ٹھٹھا کریں گی اور دنیا ان سے سخت کراہت کے ساتھ پیش آئے گی وہ آخر فتح یاب ہوں گے اور برکتوں کے دروازے ان پر کھولے جائیں گئے رساله الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 305-309) دوستو اور عزیزو! آپ نے حضرت مسیح موعود کی وصیت والے کلام کا اقتباس سن لیا۔اب اس پر عمل کرنا