مضامین بشیر (جلد 4) — Page 342
مضامین بشیر جلد چہارم 342 ایک شخص جو اس بچہ کو دیکھتا تھا اس کا دل خدا تعالیٰ کے شکر سے بھر جاتا تھا کہ لاریب حضور کی دعا سے ایک مُردہ زندہ ہو گیا ہے۔دوست سوچیں اور غور کریں کہ یہ کتنا عظیم الشان نشان ہے کہ ماہر طبیب بچے کی حالت دیکھ کر اس کی صحت کے متعلق مایوسی کا اظہار کرتے اور سپر ڈال دیتے ہیں بلکہ دعا ہونے پر خدا تعالیٰ خود بھی فرماتا ہے کہ تقدیر مبرم ہے اور ہلاکت مقدر“ مگر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا کی اجازت سے شفاعت کرتے ہیں تو یہ شفاعت خدا کے ہاں مقبول ہوتی ہے اور گویا ایک مُردہ زندہ ہو کر قبر سے باہر آجاتا ہے۔سچ ہے کہ۔قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت اُس بے نشان کی چہرہ نمائی یہی تو ہے اس روایت سے شفاعت کے مسئلہ پر بھی بڑی دلچسپ روشنی پڑتی ہے۔شفاعت بھی گو ایک قسم دعا ہی کی ہے مگر وہ عام دعا سے بہت بالا اور ارفع چیز ہے۔دراصل شفاعت کے معنی دو چیزوں کے باہمی جوڑ کے ہیں۔دعا کرنے والا تو صرف سوالی بن کر خدا کے سامنے کھڑا ہوتا ہے مگر شفاعت کرنے والا اپنے خاص تعلق کا واسطہ دے کر اور اپنے آپ کو خدا سے پیوست کر کے خدا سے ایک چیز مانگتا ہے اور ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔اس لئے خدا نے اجازت کے بغیر شفاعت جائز نہیں رکھی۔کیونکہ جب خدا کا کوئی خاص مقرب بندہ اپنے تعلق کا واسطہ دے کر خدا سے شفاعت کے رنگ میں کوئی چیز مانگتا ہے تو اس وقت خدا تعالیٰ کی محبت غیر معمولی طور پر جوش میں آتی ہے اور وہ اپنے بندے کے اکرام کی وجہ سے انکار نہیں کرنا چاہتا۔لیکن چونکہ انسان بعض اوقات دعا میں غلطی بھی کر سکتا ہے اور خدا سے ایسی چیز مانگ سکتا ہے جو اس کی کسی مصلحت کے خلاف ہے اس لئے خدا نے اپنی ازلی حکمت کے ماتحت یہ شرط مقرر کر رکھی ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر شفاعت نہ کی جائے۔اسی روایت کو دیکھو کہ خدا تعالیٰ نے شروع میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو شفاعت سے روک کر اپنا قانون بھی پورا کر لیا اور پھر فورا ہی اجازت دے کر اپنے محبوب مسیح کی عزت بھی قائم کر دی۔یہ ایک بہت بڑا امتیاز ہے جس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نوازا گیا۔چنانچہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اس روایت کے بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ۔اے احمد یو! تمہیں مبارک ہو کہ یہ دولت خدا تعالیٰ نے تمہارے حصہ میں رکھی تھی۔پس خدا کا شکر کرو اور اس کی قدر کرو ( التحام 17/24 نومبر والبدر 41/42اکتوبر 1903ء)