مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 332 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 332

مضامین بشیر جلد چهارم 332 چھائے ہوئے ہیں بلکہ حضرت سرور کائنات فخر رسل رہی کے آغاز کو دیکھو کہ یہ بنی نوع آدم کا سالا را عظم شروع میں مکہ کی گلیوں میں کس کمزوری اور کسمپرسی کی حالت میں پھرتا تھا اور ملکہ کے قریش اس پر ہنسی اڑاتے تھے مگر جب یہ بظاہر چھوٹا سا پیج عرب کی زمین میں سے پھوٹ کر نکلا تو کس طرح دیکھتے ہی دیکھتے تمام معلوم دنیا پر رحمت کا بادل بن کر چھا گیا۔یہی ترقی انشاء اللہ اسلام کے لئے احمدیت کے دور میں مقدس ہے۔جو لوگ زندہ رہیں گے وہ دیکھیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کس جلال اور کس یقین کے ساتھ فرماتے ہیں۔دیکھو وہ زمانہ چلا آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ خدا اس سلسلہ کی دنیا میں بڑی قبولیت پھیلائے گا۔اور یہ سلسلہ مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب میں پھیلے گا اور دنیا میں اسلام سے مراد یہی سلسلہ ہو گا۔یہ باتیں انسان کی باتیں نہیں۔یہ اس خدا کی وحی ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں“ اور دوسری جگہ فرماتے ہیں۔(تحفہ گولڑو یہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 182 ) میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں۔سو میرے ہاتھ سے وہ تم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے 14 (تذکرة الشهادتین روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 67) بعض درمیانی باتوں کے ذکر کے بعد میں پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عربی دانی کے اعجاز کے بیان کی طرف لوٹتا ہوں۔میں بیان کر چکا ہوں کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص الخاص تائید و نصرت سے حضرت مسیح موعود کو حضور کی درسی تعلیم کی کمی اور عربی علم کی ظاہری بے بضاعتی کے باوجود عربی زبان میں کمال عطا کیا اور معجزانہ طور پر چالیس ہزار عربی لغات کے علم سے نوازا تو اس کے بعد حضور نے عربی میں کثیر التعداد فصیح و بلیغ کتا بیں تصنیف فرما ئیں جو عدیم المثال نظم و نثر کے محاسن سے معمور تھی جن کا جواب لانے سے ہندوستان اور عرب کے علماء اور فصحاء عاجز تھے۔مگر ابھی تک حضور نے عربی زبان میں کبھی تقریر نہیں فرمائی تھی۔اور نہ اس کے لئے کوئی موقع ہی پیش آیا تھا۔لیکن اب اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے 1900ء مطابق 1317ھ میں اس کا بھی ایک بہت عمدہ موقع پیدا کر دیا۔یہ عربی تقریر جو حضور نے عید الاضحیٰ کے موقع پر فرمائی خطبہ الہامیہ کے نام سے چھپ چکی ہے اور باوجود اس کے کہ یہ تقریر ایک گھنٹے سے زائد وقت میں بغیر کسی قسم کی تیاری کے بالکل فی البدیہہ طور پر کی گئی عربی کلام کا ایک ایسا نادر نمونہ ہے جسے پڑھ کر عرب