مضامین بشیر (جلد 4) — Page 331
مضامین بشیر جلد چهارم 331 میں دیکھتا ہوں کہ ایک بڑا بحر ذخار کی طرح دریا ہے جو سانپ کی طرح بل بیچ کھاتا مغرب سے مشرق کو جا رہا ہے اور پھر دیکھتے دیکھتے سمت بدل کر مشرق سے مغرب کو الٹا بہنے لگا ہے“۔( تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ 388) مغربی استبداد کی موجودہ حالت کی کوئی تصویر اس سے بہتر نہیں کھینچی جاسکتی۔اور پھر لطف یہ ہے کہ جہاں اس بحر ذخار کے متعلق مغرب سے مشرق کی طرف بہنے کا ذکر ہے وہاں اسے سانپ سے تشبیہہ دی گئی ہے جو ایک ڈسنے والا مہلک جانور ہے۔لیکن جہاں اس کے سمت بدل کر مشرق سے مغرب کی طرف بہنے کا ذکر کیا گیا ہے وہاں اس تشبیہ کوترک کر کے اسے صرف ایک پانی کے دھارے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔یہ وہ لطیف اشارے ہیں جن سے خدا کا کلام ہمیشہ معمور ہوا کرتا ہے اور بخدا میں اُس پھوار کی ٹھنڈک ابھی سے عالم تخیل میں محسوس کر رہا ہوں جو آگے چل کر ہماری آئندہ نسلوں کو ہمارے ہونے والے مغربی بھائیوں کے پاک انفاس کی طرف سے پہنچنے والی ہے۔بہر حال یہ خدا کا دکھایا ہوا نظارہ ہے جو ضرور ایک دن پورا ہوگا۔حضرت مسیح موعودؓ فرماتے ہیں۔قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت اُس بے نشاں کی چہرہ نمائی یہی تو ہے جس بات کو کہے کہ کروں گا میں یہ ضرور ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک حدیث میں بھی آخری زمانے کے اس عظیم الشان انقلاب کی بڑی خوشکن تصویر کھینچی ہے جو کمزور دلوں کو ڈھارس دینے اور مضبوط دلوں کو خوشی کے جذبات سے لبریز کرنے کے لئے کافی ہے۔فرماتے ہیں۔كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيْكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ ( صحیح بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب نزول عیسی ابن مریم علیهما السلام) یعنی اے مسلمانو! تمہارے لئے وہ دن کیسا خوشی کا دن ہوگا کہ جب میری امت کا مسیح ابن مریم تم میں نازل ہوگا اور وہ تمہیں میں سے تمہارا امام ہوگا۔مگر یا درکھنا چاہئے کہ خدا کا ہر کام ابتداء میں ایک پیج کے طور پر ہوتا ہے جسے لوگ دیکھ کر شروع میں بالکل حقیر سمجھتے اور اس پر ہنسی اڑاتے ہیں۔مگر بالآخر وہی چھوٹا سا بیج آہستہ آہستہ ایک بڑا تناور درخت بن جاتا ہے جس کی شاخوں کے نیچے تو میں آرام پاتی اور پناہ لیتی ہیں۔حضرت عیسی کے آغا ز کو دیکھو کہ شروع میں ان کے مشن کی ابتداء کس قدر کمزور اور کتنی مایوس کن تھی مگر اب ان کے پیرو ساری دنیا پرسیل عظیم کی طرح