مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 311 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 311

مضامین بشیر جلد چهارم 311 ہونے والی ہے۔مبارک وہ جو اب اٹھ بیٹھیں اور اب سچے خدا کو ڈھونڈیں۔خدا ہی ہے جو ہر دم آسمان کا نور اور زمین کا نور ہے۔اس سے ہر ایک جگہ روشنی پڑتی ہے۔آفتاب کا سرچشمہ ) وہی آفتاب ہے۔زمین کے تمام جانداروں کی وہی جان ہے۔سچا زندہ خدا وہی ہے۔مبارک وہ جو اس کو قبول کرئے“۔اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 443-444) چنانچہ اپنی ایک نظم میں خدا تعالے کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں۔ہے عجب جلوہ تری قدرت کا پیارے ہر طرف جس طرف دیکھیں وہی رہ ہے ترے دیدار کا چشمه خورشید میں موجیں تری مشہور ہیں ہر ستارے میں تماشا ہے تری چمکار کا دوسری جگہ حضرت افضل الرسل سید ولد آدم محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ اور آپ کے انفاس طیبہ کی برکات اور فیوض کے متعلق اپنے ایک عربی قصیدہ میں فرماتے ہیں۔ائِمِينَ مُسَهَدَا يَا قَلْبِي اذْكُرُ أَحْمَدَا عَيْنَ الْهُدَى مُفْنِى الْعِدَا مُحْسِنٌ بَحْرُ الْعَطَايَا وَالْجَدَا بدرٌ مُّنِيرٌ زَاهِدٌ فِي كُلِّ وَصُفٍ حُــمــدا إِحْسَانُهُ يُصْبِي الْقُلُوبَ حُسْنُــــة يُرُوِي الصَّــدا لُبُ نَظِيرَ كَمَالِهِ فَسَتَنـد مَنَّ مُــلَـدَّدًا مَا إِنْ رَأَيْنَا مِثلَهُ نُورٌ مِّنَ اللَّهِ الَّذِي أحْيَ الْـعُــلُـوْمَ تَجَدُّدَا المُصْطَفى وَالْمُجْتَبى وَالْمُقْتَدَا وَالْمُجْتَدَا یعنی اے میرے دل! تو احمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو یاد کیا کرو جو ہدایت کا سرچشمہ ہے اور حق کے دشمنوں کے لئے تباہی کا پیغام ہے۔وہ نیکیوں کا مجموعہ اور شرافت کا پتلا اور احسانوں کا مجسمہ ہے۔وہ بخششوں کا سمندر ہے اور سخاوتوں کا بحر بیکراں۔وہ چودھویں کے چاند کی طرح روشن اور ضیا پاش ہے۔اور وہی ہر تعریف اور ہر توصیف کا مستحق ہے۔اس کے احسان دلوں کو گرویدہ کرتے ہیں اور اس کا حسن آنکھوں کی پیاس کو بجھاتا ہے۔اس کے کمالات کی نظیر تلاش کر کے دیکھ لوتم حیران اور مایوس ہو کر نادم ہو جاؤ گے کہ اس کی