مضامین بشیر (جلد 4) — Page 310
مضامین بشیر جلد چہارم پہلے تو رہ میں ہارے پار اس نے ہیں اتارے میں جاؤں اس کے وارے بس ناخدا یہی ہے 310 ( قادیان کے آریہ اور ہم روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 456) الغرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ کے دین و مذہب کے یہی دو بڑے ستون تھے۔ایک توحید الہی اور دوسرے رسالت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )۔انہی کے ذریعہ آپ نے اپنی جماعت کی اخلاقی اور روحانی تربیت فرمائی اور انہی کے ذریعہ آپ دنیا بھر میں اصلاح کا کام سرانجام دینا چاہتے تھے اور آپ کا سارا تبلیغی اور تربیتی جہاد انہی دو عظیم الشان نکتوں کے ارد گرد گھومتا ہے۔خدا ایک ہے۔اپنی ذات میں ایک اور اپنی صفات میں ایک۔اور ہر جہت سے وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ۔اور اُس کے علم اور قدرت کی کوئی حد بندی نہیں۔اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے آخری صاحب شریعت نبی اور خاتم النبین ہیں جن کو قرآن جیسی کامل کتاب دی گئی جو وحشی انسانوں کو مہذب انسان اور مہذب انسانوں کو با اخلاق انسان اور با اخلاق انسانوں کو باخدا انسان اور باخدا انسانوں کو خدا نما انسان بنانے کے لئے آسمان سے نازل ہوئی ہے۔چنانچہ ذات باری تعالیٰ اور اس کے پاک کلام کے متعلق فرماتے ہیں۔دوست غور سے سنیں کہ کن زور دار الفاظ میں فرماتے ہیں۔یقیناًیہ سمجھو کہ جس طرح یہ ممکن نہیں کہ ہم بغیر آنکھوں کے دیکھ سکیں یا بغیر کانوں کے سن سکیں یا بغیر زبان کے بول سکیں اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ بغیر قرآن کے اس پیارے محبوب ( یعنی اپنے آسمانی آقا) کا منہ دیکھ سکیں۔میں جوان تھا اب بوڑھا ہوا مگر میں نے کوئی نہ پایا جس نے بغیر اس پاک چشمہ کے اس کھلی کھلی معرفت کا پیالہ پیا ہو۔اے عزیز و! اے پیارو! کوئی انسان خدا کے ارادوں میں اُس سے لڑائی نہیں کر سکتا۔یقینا سمجھ لو کہ کامل علم کا ذریعہ خدا تعالیٰ کا الہام ہے جو خدا تعالیٰ کے پاک نبیوں کو ملا۔پھر بعد اس کے اس خدا نے جو دریائے فیض ہے یہ ہرگز نہ چاہا کہ آئندہ اس الہام پر مہر لگا دے اور اس طرح پر دنیا کو تباہ کردے۔۔۔۔انسان کی تمام سعادت اسی میں ہے کہ جہاں روشنی کا پتہ لگے اُسی طرف دوڑے اور جہاں اس گم گشتہ دوست کا نشان پیدا ہو اسی راہ کو اختیار کرے۔دیکھتے ہو کہ ہمیشہ آسمان سے روشنی اُترتی اور زمین پر پڑتی ہے۔اسی طرح ہدایت کا سچا نور آسمان سے ہی اُترتا ہے۔کامل اور زندہ خدا وہ ہے جو اپنے وجود کا آپ پتہ دیتا ر ہے اور اب بھی اس نے یہی چاہا ہے کہ آپ اپنے وجود کا پتہ دیوے۔آسمانی کھڑکیاں کھلنے کو ہیں۔عنقریب صبح صادق