مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 10 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 10

مضامین بشیر جلد چهارم 10 ہے۔ایسے وقت میں حضرت مسیح موعود کے والد صاحب نے علاقہ کے ایک سکھ زمیندار کے ذریعہ جو ہمارے دادا صاحب سے ملنے آیا تھا حضرت مسیح موعود کو کہلا بھیجا کہ آج کل ایک ایسا بڑا افسر برسر اقتدار ہے جس کے ساتھ میرے خاص تعلقات ہیں۔اس لئے اگر تمہیں نوکری کی خواہش ہو تو میں اس افسر کو کہ کر تمہیں اچھی ملازمت دلاسکتا ہوں۔یہ سکھ حضرت مسیح موعود کی خدمت میں حاضر ہوا اور ہمارے دادا صاحب کا پیغام پہنچا کر تحریک کی کہ یہ ایک بہت عمدہ موقع ہے اسے ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہئے۔حضرت مسیح موعود نے اس کے جواب میں بلا توقف فرمایا حضرت والد صاحب سے عرض کر دو کہ میں ان کی محبت اور شفقت کا ممنون ہوں مگر ” میری نوکری کی فکر نہ کریں۔میں نے جہاں نو کر ہونا تھا ہو چکا ہوں“ (سیرت المہدی جلداول) یہ سکھ زمیندار حضرت دادا صاحب کی خدمت میں حیران و پریشان ہو کر واپس آیا اور عرض کیا کہ آپ کے بچے نے تو یہ جواب دیا ہے کہ ” میں نے جہاں نوکر ہونا تھا ہو چکا ہوں۔“ شائد وہ سکھ حضرت مسیح موعود کے اس جواب کو اس وقت اچھی طرح سمجھا بھی نہ ہوگا۔مگر دادا صاحب کی طبیعت بہت نکتہ شناس تھی۔کچھ دیر خاموش رہ کر فرمانے لگے کہ اچھا غلام احمد نے یہ کہا ہے کہ میں نو کر ہو چکا ہوں تو پھر ٹھیک ہے اللہ اسے ضائع نہیں کرے گا۔اور اس کے بعد کبھی کبھی حسرت کے ساتھ فرمایا کرتے تھے کہ ” سچا رستہ تو یہی ہے جو غلام احمد نے اختیار کیا ہے۔ہم تو دنیا داری میں الجھ کر اپنی عمریں ضائع کر رہے ہیں۔مگر باوجود اس کے وہ شفقت پدری اور دنیا کے ظاہری حالات کے ماتحت اکثر فکر مند بھی رہتے تھے کہ میرے بعد اس بچہ کا کیا ہوگا ؟ اور لازمہ بشری کے ماتحت حضرت مسیح موعود کو بھی والد کے قرب وفات کے خیال سے کسی قدر فکر ہوا۔لیکن اسلام کا خدا بڑا وفادار اور بڑا قدر شناس آتا ہے۔چنانچہ قبل اس کے کہ ہمارے دادا صاحب کی آنکھیں بند ہوں خدا نے اپنے اس نوکر شاہی کو جس نے اپنی جوانی میں اس کا دامن پکڑا تھا اس عظیم الشان الہام کے ذریعہ تسلی دی که: أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ “ ( تذکر صفحہ 20 ایڈیشن چہارم) یعنی اے میرے بندے! تو کس فکر میں ہے؟ کیا خدا اپنے بندے کے لئے کافی نہیں؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اکثر فرمایا کرتے تھے اور بعض اوقات قسم کھا کر بیان فرماتے تھے کہ یہ