مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 9 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 9

مضامین بشیر جلد چهارم 9 8 سیرت طیبہ حضرت مسیح موعود کے خلق عظیم کے تین درخشاں پہلو مؤرخہ 23 جنوری 1960ء کو جماعت احمدیہ کے جلسہ سالانہ میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنا جو نہایت قیمتی اور بصیرت افروز مضمون پڑھا وہ افادہ احباب کے لئے درج ذیل کیا جاتا ہے۔ادارہ ) أَشْهَدُ أَن لَّا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ آج حضرت میرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود علیہ السلام ، مقدس بانی سلسلہ احمدیہ کی وفات پر نصف صدی سے کچھ اوپر گزرتا ہے۔میں اس وقت قریباً پندرہ سال کا تھا اور یہ وقت پورے شعور کا زمانہ نہیں ہوتا۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اخلاق فاضلہ کے تین خاص پہلو اس قدر نمایاں ہوکر میری آنکھوں کے سامنے پھر رہے ہیں کہ گویا میں اب بھی اپنی ظاہری آنکھوں اور اپنے مادی کانوں سے ان کے بلند و بالانقوش کو دیکھ رہا اور ان کی دلکش دل آویز گونج کوسن رہا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلق عظیم کے یہ تین پہلو (اول ) محبت الہی ( دوم ) عشق رسول اور (سوم) شفقت علی خلق اللہ سے تعلق رکھتے ہیں اور انہی تین پہلوؤں کے چند جستہ جستہ واقعات کے متعلق میں اس جگہ کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔میرا یہ بیان ایک طرح سے گویا دریا کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش کا رنگ رکھتا ہے اور کوزہ بھی وہ جو بہت چھوٹا اور بڑی تنگ سی جگہ میں محصور ہے۔مگر خدا چاہے تو ایک مختصر سے بیان میں ہی غیر معمولی برکت ڈال سکتا ہے۔وَمَا تَوْفِيْقُ إِلَّا بِاللهِ الْعَظِيمِ وَ هُوَ الْمُسْتَعَانُ فِي كُلِّ حَالٍ وَّ حِينٍ - محبت الہی سب سے پہلے اور سب سے مقدم محبت الہی کا نمبر آتا ہے۔کیونکہ یہ وہ چیز ہے جو خالق و مخلوق کے باہمی رشتہ کا مضبوط ترین پیوند اور فطرت انسانی کا جزو اعظم ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں اس روحانی پیوند کا بہت عجیب و غریب رنگ میں آغاز ہوا۔اس کا تصور ایک صاحب دل انسان میں وجد کی سی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود کا جوانی کا عالم تھا جبکہ انسان کے دل میں دنیوی ترقی اور مادی آرام و آسائش کی خواہش اپنے پورے کمال پر ہوتی ہے۔اور حضور کے بڑے بھائی صاحب ایک معزز عہدہ پر فائز ہو چکے تھے اور یہ بات بھی چھوٹے بھائی کے دل میں ایک گونه رشک یا کم از کم نقل کارجحان پیدا کر دیتی