مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 279 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 279

مضامین بشیر جلد چہارم 279 يُزَكِّيهِمْ کے لفظ میں یہ دونوں مفہوم شامل ہیں۔یعنی پاک کرنا اور اوپر اٹھانا۔اس طرح یہ کل چار مقصد بنتے ہیں اور یہ سارے مقصد انصار اللہ کے مدنظر رہنے چاہئیں۔یہ کام اتنے وسیع ہیں کہ اگر انصار اللہ کے ہر فرد کی ساری عمر اور ساری توجہ صرف اسی مقصد کے حصول میں خرچ ہو جائے تو پھر بھی کم ہے۔مگر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سارے کام سرانجام دیئے۔آپ نے ایک امی قوم کو خدائی احکام کا سبق دیا۔آپ نے ان کو ان احکام کی حکمت اور فلسفے سے بصورت احسن آگاہ کیا۔آپ نے ان کے اندر وہ پاکیزگی اور وہ طہارت پیدا کر دی جو دنیا کی تاریخ میں عدیم المثال ہے۔آپ نے عربوں کی گری ہوئی اور پستی میں پڑی ہوئی قوم کو اس طرح اوپر اٹھایا اور ان کے لئے ترقی کے ایسے سامان مہیا کئے کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے ساری معلوم دنیا پر چھا گئی اور ایک امی قوم ہوتے ہوئے دنیا کی ایسی استاد بن گئی کہ آج یورپ کے ترقی یافتہ ممالک اس بات کو بر ملا تسلیم کرتے ہیں کہ ہماری ابتدای بیداری کا باعث وہ علوم ہوئے ہیں جو ہمیں مسلمانوں کے ذریعہ حاصل ہوئے۔پس اپنے اس افتتاحیہ خطاب میں تفصیلات میں جانے سے پہلے انصار اللہ کی خدمت میں میری پہلی نصیحت یہی ہے کہ وہ انصار اللہ کے لفظ پر غور کریں اور پھر غور کریں اور پھر غور کریں۔اور اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ وہ خدا کے کاموں میں خدا کا مددگار بننے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور خدائی کاموں میں سب سے مقدم کام وہ ہے جو مذکورہ بالا آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کیا گیا یعنی اوّل کتاب اللہ کی تعلیم۔اور دوم احکام الہی کی حکمت اور فلسفہ اور سوم نفوس کی پاکیزگی اور طہارت اور چہارم قومی ترقی کے سامانوں کا مہیا کرنا اور ان پر خود چلنا اور دوسروں کو چلانا۔اگر انصار اللہ بظاہر صرف اسی چھوٹی سی نصیحت پر ہی کار بند ہو جائیں تو اس نصیحت کے بعد انہیں در حقیقت کسی اور نصیحت کی ضرورت نہیں رہتی۔وہ ان چار باتوں پر عمل کرنے سے سچ مچ انصار اللہ یعنی ” خدا کے مددگار اور خدا کے دست و بازو اور دنیا کی قوم نمبر ایک بلکہ خیر الامت بن سکتے ہیں۔پھر ہمارے سلسلہ کے بانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے کہ: يُحيى الدِّينَ وَيُقِيمُ الشَّرِيعَةَ یعنی ہمارا یہ معمور د مرسل دین کو زندہ کرے گا اور شریعت کو قائم کرے گا۔اس عجیب و غریب خدائی الہام میں یہ اشارہ ہے کہ مسیح موعود کی بعثت ایسے وقت میں ہوگی کہ جب دین بظاہر مُردہ ہو چکا ہوگا اور غیر قوموں پر اس کا رعب بالکل مٹ چکا ہوگا اور خود مسلمانوں میں بھی شریعت پر