مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 267 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 267

مضامین بشیر جلد چهارم 267 تھی جو گویا ایک طرح سے بچپن کی عمر ہے۔اور جب نظارتیں قائم ہوئیں تو آپ کے ساتھ ناظروں کے عہدوں پر کام کرنے والے بھی زیادہ تر نوجوان ہی تھے۔چنانچہ جب ابتداء 1921ء میں نظارتیں بنی تو ابتدائی ناظروں میں چوہدری فتح محمد سیال صاحب مرحوم اور مولوی عبدالرحیم صاحب در د مرحوم اور سید ولی اللہ شاہ صاحب اور یہ خاکسار شامل تھے۔اور میری اور درد صاحب مرحوم کی عمر اس وقت ستائیس اٹھائیس سال سے زیادہ نہیں تھی مگر ہم نے خدا کے فضل سے حضور کی قیادت میں نظارتوں کے کام کو اس طرح سنبھالا کہ میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں ( وَلَا فَخْرَ ) کہ اس وقت کی نظارت آج کل کی نظارت سے بحیثیت مجموعی زیادہ مضبوط اور زیادہ چوکس اور زیادہ متحد تھی۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک دفعہ مشاورت میں ایک ناظر کی رپورٹ پیش ہونے پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے بڑی خوشی کے ساتھ فرمایا تھا کہ یدر پورٹ ایسی ہے کہ بڑی بڑی حکومتوں کے تجربہ کاروزیروں کے رپورٹوں کے ساتھ مقابلہ کر سکتی ہے۔پھر یہ تو مسلمان جانتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ( فداہ نفسی ) نے خدا کے حکم سے رسالت کا دعوی کیا تو اس وقت بھی آپ کے ماننے والوں میں اکثر نوجوان ہی تھے۔چنانچہ حضرت علی اور حضرت طلحہ اور حضرت زبیر اور حضرت سعد بن ابی وقاص کی عمریں دس سال سے لے کر تئیس چوبیس سال کے اندر اندر تھیں مگر انہی نوجوانوں نے ایمانی قوت سے متصف ہو کر دنیا کی کایا پلٹ دی۔حدیث میں آتا ہے کہ بدر کے مقام پر جب دشمن رسول ابو جہل جو کفار کے لشکر کا سالار اعظم تھا بڑے جاہ وحشمت کے ساتھ میدان میں نکلا اور اس کے ارد گرد جرار سپاہیوں کا پہرہ تھا تو انصار کے دو نو خیز نو جوانوں نے جن کی عمریں ہیں اکیس سال سے زیادہ نہیں تھیں دشمن کی صفیں چیرتے ہوئے اس پر اس تیزی کے ساتھ حملہ کیا کہ اس کے پہرہ داروں کے دیکھتے دیکھتے اسے گرا کر خاک میں ملا دیا۔پس اے عزیز و! آپ اپنے آپ کو چھوٹا یا حقیر نہ سمجھیں۔آپ کے اندر خدا کے فضل سے وہ برقی طاقت پنہاں ہے جو دنیا میں انقلاب پیدا کر سکتی ہے۔صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ آپ اپنی قدر و قیمت کو پہچانیں اور اپنے ایمان میں وہ پختگی اور اپنے علم وعمل میں وہ روشنی پیدا کریں جو سچے مومنوں کا طرہ امتیاز ہے۔بے شک آپ اپنی عمر کے تقاضا کے ماتحت کھیلیں کو دیں۔ورزشی اور تفریحی باتوں میں حصہ لیں اور دنیا کے کاروبار میں حصہ لیں اور دنیا کے کاروبار کریں مگر آپ کے دل میں ایمان کی شمع ہر وقت روشن رہنی چاہئے اور نماز اور دعا کے ذریعہ آپ کے دل کی تاریں ہر لحظہ خدا کے ساتھ بندھی رہیں کہ جدا ہونے کا نام نہ لیں۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بار ہا سنا ہے کہ مومن کا اصل مقام یہ ہوتا ہے: