مضامین بشیر (جلد 4) — Page 260
مضامین بشیر جلد چهارم 260 سلم قَوْلاً مِّن رَّبِّ رَّحِيمٍ (یس): 59) اور وہ اس خدائی بشارت کے ماتحت اُس وقت صحت یاب ہو گئے لیکن جب ان کی مقدرا جل آ گئی تو یہ عجیب تو ارد ہے بلکہ غیر معمولی تصرف الہی ہے کہ ان کے پہلو میں یسین پڑھنے والے دوست (غالباً حافظ محمد رمضان صاحب ہی تھے ) جب اس آیت پر پہنچے کہ سلم قف قَوْلاً مِّن رَّبِّ رَّحِيمٍ (يس: 59) تو عین اُس وقت حضرت میر محمد اسحاق صاحب نے خدائی آواز پر لبیک کہا اور اپنی جان جان آفرین کے سپر د کر دی۔گویا یہی قرآنی آیت بچپن کے زمانہ میں میر صاحب کی دنیوی زندگی کی بشارت بنی اور اجل مقدر کے وقت اُخروی زندگی کی کامیابی کی بشارت بن گئی۔ان کی وفات پر جماعت کا غریب طبقہ اور خصوصاً دار الشیوخ اور مدرسہ احمدیہ کے طلبہ کا طبقہ اس طرح بلک بلک کر روتا تھا کہ گویا وہ سچ مچ یتیم ہوگیا ہے۔اور واقعی وہ ایک طرح سے آج تک بھی یتیم ہی چلا جارہا ہے۔ہمارا آسمانی آقا ان یتیموں کا حافظ و ناصر ہو۔وَ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَان وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُوالْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ۔( محررہ 9 جولائی 1961ء)۔۔۔۔۔۔۔۔۔(الفرقان ربوہ ستمبر اکتوبر 1961ء) میں اپنی طرف سے حج بدل کرانا چاہتا ہوں مخلص دعا گو اصحاب مقامی امیر کی معرفت درخواست بھیجوائیں حج کی خواہش کس سچے مسلمان کو نہیں مگر میں بعض مجبوریوں کی وجہ سے اپنی اس خواہش کو اس وقت تک ملتوی کرتا رہا اور اب صحت کی یہ حالت ہے کہ حج بدل کے سوا چارہ نظر نہیں آتا۔سو جو مخلص احمدی دوست میری طرف سے حج بدل کرنے کے لئے تیار ہوں وہ اپنی جگہ کے مقامی امیر یا ضلع وار امیر کے ذریعہ درخواست بھجوا کر عنداللہ ماجور ہوں۔درخواست میں ان باتوں کے متعلق صراحت ضروری ہے: (1) درخواست کنندہ کی بیعت کب کی ہے؟ (2) عمر اور صحت کی حالت کیسی ہے؟ ( حج سمندری جہاز کے رستہ کرنا ہوگا ) (3) کیا اس سے پہلے اپنی طرف سے حج کیا ہوا ہے؟ (4) امیر مقامی کی طرف سے تصدیق ہونی چاہئے کہ درخواست کنندہ نیک اور متقی اور دعاؤں کا عادی ہے۔(5) دیگر متفرق امور جو درخواست میں لکھنے ضروری سمجھے جائیں۔