مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 254 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 254

مضامین بشیر جلد چهارم 254 آپ کا رجسٹر ڈ خط محر ر ہ 10 اکتوبر 1961 ء موصول ہوا۔مجھے اس خط سے یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ جو نا پاک سلسلہ مضامین سبط نور کے قلمی نام سے ”پیغام صلح ، میں شائع ہورہا ہے اس میں آپ کا یا آپ کے بھائی صاحب کا یا آپ کے کسی عزیز کا دخل نہیں ہے اور نہ یہ مضامین آپ کے ایما سے لکھے جا رہے ہیں۔شکر ہے کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی اولاد کا کم از کم اس ناپاک سلسلۂ مضامین سے تعلق نہیں ہے۔باقی رہا سوء ظن کا سوال جس کے متعلق آپ نے لکھا ہے سو یہ سوء ظن کا سوال نہیں بلکہ غلط فہمی کا سوال ہے کیونکہ حالات پیش آمدہ میں میرے لئے اس معاملہ میں غلط فہمی پیدا ہونا ناگزیر تھا۔کیونکہ سبط نور“ کے لفظ سے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی اولاد کی طرف ہی خیال جاتا ہے۔کیونکہ اور کوئی ایسا خاندان میرے علم میں نہیں جو ” نور“ یعنی حضرت مولوی نورالدین صاحب کی اولاد میں سے ہو اور اس نام سے معروف ہو۔آپ نے اچھا کیا کہ اس غلط فہمی کو جو بے شمار دلوں میں پیدا ہوئی ہے اپنے خط کے ذریعہ دور کر دیا ہے۔میری دعا ہے کہ خدا تعالیٰ آئندہ بھی حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی اولا د کو ایسے ناپاک مضامین سے دور رکھے۔مگر آپ کے خط کی ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔میں نے اپنے مضمون میں لکھا تھا کہ آپ اتنی دور نہ جائیں کہ واپسی کا رستہ بند ہو جائے اس کا مطلب واضح تھا کہ چونکہ آپ کا تعلق خلافت سے کٹ چکا ہے اس لئے میں نے خواہش ظاہر کی تھی کہ اس قطع تعلق میں اتنی دوری نہ پیدا ہو کہ آپ کے لئے واپسی کا رستہ مسدود ہو جائے اور آپ خلافت کی طرف واپس نہ لوٹ سکیں۔آپ نے میرے فقرے کو الٹا کر میرے متعلق بھی یہی فقرہ دہرا دیا ہے کہ میں بھی اتنی دور نہ جاؤں کہ میرے لئے بھی واپسی کا رستہ بند ہو جائے۔میں یہ فقرہ سمجھنے سے بالکل قاصر ہوں کیونکہ جہاں آپ کی حالت میں خلافت سے علیحدگی کی صورت میں ایک بڑا تغیر آیا ہے وہاں میں تو بفضلہ تعالیٰ شروع سے لے کر ایک ہی مقام پر چلا آیا ہوں یعنی حضرت مسیح موعود کو ظنی اور غیر تشریعی نبی مانتا ہوں اور خلافت سے وابستہ ہوں۔پس میرے متعلق تو واپسی کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔آپ نے غالباً صرف جوابی طور پر میرے والا فقرہ بلا وجہ دہرا دیا ہے۔بہر حال شکر ہے کہ اصل غلط فہمی جو حالات پیش آمدہ کے ماتحت ناگزیر تھی آپ کے خط سے دور ہوگئی ہے۔مگر میں یہ مشورہ ضرور دوں گا کہ اگر آپ کے لئے ممکن ہو اور آپ کو ان مضامین کے لکھنے والے سبط نور