مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 217 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 217

مضامین بشیر جلد چہارم 217 (3) جیسا کہ صحیح روایات سے ثابت ہے عیدالاضحی ہجرت کے بعد دوسرے سال میں شروع ہوئی تھی۔(زرقانی و تاریخ الخمیس ) اور اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں گویا نو دس ”بڑی عید میں آئیں۔اس کے مقابل پر حج آپ نے صرف ایک دفعہ کیا تھا اور یہ وہی حج ہے جو حجتہ الوداع کہلاتا ہے۔یہ حج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے دسویں سال میں ادا فر مایا تھا (طبری و فتح الباری شرح بخاری ) اور اس کے صرف اڑھائی ماہ بعد آپ وفات پاگئے۔(4) قرآن شریف نے صراحت فرمائی ہے کہ حج کی عبادت کا آغا ز حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں ہوا ( سورۃ حج رکوع 4) جنہوں نے خدائی حکم سے اپنے پلو ٹھے فرزند حضرت اسمعیل کو مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں لا کر آباد کیا جہاں زندگی کے بقا کا کوئی سامان نہیں تھا اور حقیقتا یہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس خواب کی تعبیر تھی جس میں آپ نے دیکھا تھا کہ میں اپنے بچے کو ذبح کر رہا ہوں۔اس موقع پر خدا نے بچے کی قربانی کی جگہ ظاہر میں جانور کی قربانی مقرر فرمائی مگر حقیقت کی رو سے انسان کی قربانی بھی قائم رہی۔یہ گویا پہلا انسانی وقف تھا جو خدا کی راہ میں پیش کیا گیا تا کہ خدا تعالیٰ حضرت اسماعیل کو اس موت کے بعد ایک نئی زندگی دے کر اس درخت کی تخم ریزی کرے جس سے بالآخر عالمگیر شریعت کے حامل حضرت سید ولد آدم فخر انبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود باجود پیدا ہونے والا تھا۔حج میں قربانی کی رسم اسی اسماعیلی قربانی کی ایک ظاہری علامت ہے تا کہ اس کے ذریعہ اس بے نظیر قربانی کی یاد زندہ رکھی جاسکے جس کے شجرہ طیبہ نے مکہ کی بظاہر بے آب و گیاہ اور بے ثمر وادی میں وہ عدیم المثال ثمر پیدا کیا جس کے دم سے دنیا میں روحانیت زندہ ہوئی، زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گی۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ: أَنَا ابْنُ النَّبِيُحَين (تاريخ الخميس) یعنی میں دو ذبح ہونے والی ہستیوں کا فرزند ہوں ان دو قربانیوں میں سے ایک تو اسماعیل کا جسم تھا جو گویا ملکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں آباد کر کے عملاً ذبح کر دیا گیا اور دوسرے اسماعیل کی روح تھی جو خدا کے حضور وقف علی الدین کے ذریعہ قربان ہوئی۔عید الاضحیٰ کی قربانیاں اسی مقدس قربانی کی یادگار ہیں مگر اس زمانہ کے روحانی تنزل اور مادی عروج پر انسان کیا آنسو بہائے کہ اس عظیم الشان قربانی کی یاد کو زندہ رکھنا تو در کنار آج اکثر مسلمان عیدالاضحی کا نام تک فراموش کر چکے ہیں۔چنانچہ جسے دیکھو عید الاضحی ( قربانیوں کی عید ) کی بجائے جو اس عید کا اصل نام ہے