مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 197 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 197

مضامین بشیر جلد چهارم 197 یعنی رمضان کے آخری دس دنوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کمر کس لیتے تھے اور عبادت اور دعاؤں میں غیر معمولی انہماک سے اپنی راتوں کو بھی گویا شب بیداری کے ذریعہ جیتا جاگتا دن بنادیتے تھے۔پس اس مبارک عشرہ کی آمد آمد کے پیش نظر میں جماعت کے مخلص دوستوں ( مردوں اور عورتوں اور بچوں ) سے کہتا ہوں کہ اپنے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سنت کی اتباع میں وہ بھی اپنی کمروں کو کس لیس اور خدا کے آستانے پر گر کر اسلام اور احمدیت کے غلبہ کے لئے ، جماعت کی ترقی کے لئے ، جماعت کے کمزور طبقہ کی مضبوطی کے لئے ، حضرت خلیفتہ اسی ایدہ اللہ کی صحت کی بحالی کے لئے خود اپنے لئے اور اپنی اولادوں کے لئے خصوصیت کے ساتھ گریہ وزاری سے دعائیں کریں اور دعائیں کریں اور اس طرح خدا کے سامنے اپنی جھولی کو پھیلائیں کہ اس بے نیاز آقا کا وجود ہم سب کے لئے مجسم نواز بن جائے۔ہماری منزل ابھی دور ہے بہت دور۔انفرادی لحاظ سے بھی دور اور قومی لحاظ سے بھی دور اور دعا کے سوا ہمارے پاس کوئی ہتھیار نہیں۔بے شک ظاہری تدابیر اختیار کرنے کا ہمیں حکم ہے اور جو شخص خدا کے بنائے ہوئے سامانوں سے غافل رہ کر محض رسمی قسم کی دعا پر بھروسہ کرتا ہے وہ ہرگز سچا احمدی نہیں سمجھا جاسکتا کیونکہ وہ خدا کا امتحان کرتا ہے اور خدا کا امتحان کرنے والا خود امتحان میں ڈالا جائے گا اور اس کی رحمت سے محروم رہے گا۔پس پوری توجہ اور پوری کوشش سے ظاہری تدابیر کو بھی اختیار کرو اور ضرور کر دیگر یقین رکھو کہ: وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللهِ یعنی انسان کے لئے ہر کام میں نصرت کا منبع صرف خدا کی ذات ہے جن جماعتی دعاؤں کی طرف میں اس وقت انفرادی دعاؤں کے علاوہ اپنے دوستوں کو خاص توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہیں : (1) حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی صحت کے لئے دعا اور اس تعلق میں خصوصیت سے یہ دعا کہ حضور کی موجودہ لمبی بیماری کی وجہ سے جماعت میں کسی قسم کی ستی اور کمزوری نہ پیدا ہو۔(2) جماعت کے نو جوانوں اور خصوصاً نسلی احمدیوں میں ایمان اور اخلاص اور قوت عمل اور جذبہ خدمت کے لحاظ سے کمی نہ آئے اور ان کا کردار بلند ہو اور ہمیشہ بلند ر ہے۔اس تعلق میں یہ خاکسار جماعت کے مقامی اور ضلع وار امیروں کو بھی توجہ دلاتا ہے کہ ان کا یہ ایک نہایت ضروری فرض ہے کہ اپنے حلقہ کے احمدی نوجوانوں اور بچوں کو ہمیشہ اپنی دعاؤں میں یا درکھیں اور اس بات کی کوشش کریں اور نگرانی رکھیں کہ ان کے اندر: سچ بولنے کی عادت، محنت و جفاکشی، دیانت و امانت ، جماعتی کاموں میں ذوق وشوق، نمازوں اور