مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 186 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 186

مضامین بشیر جلد چهارم 186 میاں عبدالرحمن ! اس گاڑی والے سے کہہ دیں اور اچھی طرح سمجھا دیں کہ اس وقت ہمارے پاس صرف ایک روپیہ ہے وہ ہمیں صرف اتنی دور تک لے جائے کہ ہم اسی روپے کے اندر گھر واپس پہنچ جائیں۔“ ( روایات بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی) چنانچہ حضوڑ تھوڑی سی ہوا خوری کے بعد گھر واپس تشریف لے آئے مگر اسی رات نصف شب کے بعد حضور کو اسہال کی تکلیف ہو گئی اور دوسرے دن صبح دس بجے کے قریب حضور اپنے مولیٰ اور محبوب ازلی کے حضور حاضر ہو گئے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضور کے وصال کا واقعہ اس وقت پچاس 50 سال گزرنے پر بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے۔گویا کہ میں حضور کے سفر آخرت کی ابتداءاب بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔مگر اس وقت مجھے اس واقعہ کی تفصیل بتانی مقصود نہیں بلکہ صرف یہ اظہار مقصود ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیوی مال و متاع کے لحاظ سے بعینہ اس حالت میں فوت ہوئے جس میں کہ آپ کے آقا حضرت محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تھا۔حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری بیماری میں جو کہ مرض الموت تھی جلدی جلدی مسجد سے اٹھ کر اپنے گھر تشریف لے گئے اور جو تھوڑ اسا مال وہاں رکھا تھا وہ تقسیم کر کے اپنے آسمانی آقا کے حضور حاضر ہونے کے لئے خالی ہاتھ ہو گئے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنی زندگی کے آخری دن اپنی جھولی جھاڑ دی تا کہ اپنے آقا کے حضور خالی ہاتھ ہوکر حاضر ہوں۔بے شک اسلام دنیا کی نعمتیں حاصل کرنے اور ان کے لئے مناسب کوشش کرنے سے نہیں روکتا بلکہ قرآن خود حسنات دارین کی دعا سکھاتا ہے۔مگر انبیاء اور اولیاء کا مقام فقر کا مقام ہوتا ہے جس میں یہ پاک گروہ صرف خدا کا نوکر بن کر قُوتِ لَا يَمُوتُ پر زندگی گزارنا چاہتا ہے۔اسی لئے نبیوں کے سرتاج حضرت افضل الرسل خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے دین و دنیا کا بادشاہ ہوتے ہوئے بھی اپنے لئے فقر کی زندگی پسند کی اور ہمیشہ یہی فرمایا کہ: الْفَقْرُ فَخْرِى یعنی فقر کی زندگی میرے لئے فخر کا موجب ہے 30 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنے خدا داد فرائض کی ادائیگی میں بھی اصل بھروسہ دعا پر تھا جو فقر ہی کا دوسرا نام ہے۔کیونکہ جس طرح اہل فقر ایک حد تک دنیا کے سہاروں سے کام لینے کے باوجو داصل بھروسہ خدا کی غیبی نصرت پر رکھتے ہیں اسی طرح حضرت مسیح موعود نے اسلام کی خدمت اور صداقت کی اشاعت میں