مضامین بشیر (جلد 4) — Page 178
مضامین بشیر جلد چہارم 178 آنکھوں کی توجہ کے ذریعہ اپنے شکار کو مسحور کر لیا کرتی ہیں۔اس تعلق میں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ علم توجہ یعنی پینوٹزم کو حقیقی روحانیت سے جو خدا تعالیٰ کے ذاتی تعلق کا دوسرا نام ہے کوئی واسطہ نہیں۔بلکہ یہ علم دنیا کے علموں میں سے اسی طرح کا علم ہے جس طرح کہ طب یا ہیئت یا ہندسہ یا کیمسٹری یا فرکس وغیرہ دنیا کے علوم ہیں اور ہر شخص خواہ وہ کسی مذہب وملت سے تعلق رکھتا ہوا سے حاصل کر سکتا اور اپنی فطری استعداد کے مطابق مناسب مشق کے ذریعہ اس میں کافی مہارت پیدا کر سکتا ہے۔چنانچہ مسلمانوں میں سے کئی صوفیا اور ہندوؤں میں سے کئی جوگی اس علم کے ماہر گزرے ہیں اور اس علم کے ذریعہ بیماروں کا علاج بھی کرتے رہے ہیں اور یہی اس علم کا بہترین استعمال ہے اور آج کل یورپ و امریکہ کے لوگ بھی اس علم میں کافی ترقی کر رہے ہیں اور قدیم زمانہ میں جو ساحر حضرت موسیٰ کے مقابل پر آئے تھے وہ بھی غالبا اسی علم کے ماہر تھے مگر عصائے موسوی کے سامنے ان کا سحر ٹوٹ کر پاش پاش ہو گیا۔چنانچہ قرآن مجید فرماتا ہے: إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَحِرِطَ وَلَا يُفْلِحُ الشَّحِرُ حَيْثُ أَتَى (طه:70) یعنی ان لوگوں نے ایک ساحرانہ چال چلی تھی مگر خدا کے رسولوں کے مقابلہ پر کوئی ساحر کامیاب نہیں ہو سکتا خواہ وہ کسی رستہ سے آئے۔$24 اسی تعلق میں مجھے ایک روایت بھی یاد آئی ہے۔حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب ابتداء میں حضرت منشی احمد جان صاحب مرحوم، حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے لدھیانہ میں ملے تو چونکہ حضرت منشی صاحب علم توجہ کے بڑے ماہر سمجھے جاتے تھے اور اس علم کے ذریعہ مریضوں کا علاج بھی کیا کرتے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان سے دریافت کیا کہ آپ توجہ کے علم کے ماہر ہیں اس علم میں آپ کا سب سے بڑا کمال کیا ہے؟ منشی صاحب مرحوم بڑے منکسر المزاج صوفی فطرت کے نیک بزرگ تھے انہوں نے ادب کے ساتھ عرض کیا ” حضرت میں یہ کر سکتا ہوں کہ اگر میں کسی شخص پر توجہ ڈالوں تو وہ تڑپ کر زمین پر گر جاتا ہے“۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: منشی صاحب اس سے اس کی روحانیت کو کیا فائدہ پہنچا اور آپ کی روحانیت کو کیا فائدہ پہنچا؟ اور اس کے نفس کی پاکیزگی اور خدا کے تعلق میں کیا ترقی ہوئی ؟“