مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 166 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 166

مضامین بشیر جلد چهارم 166 آخرت میں بھی میرے ساتھ ہوگی“ (سیرۃ المہدی روایت 79 نیز اصحاب احمد ذکر حضرت منشی ظفر احمد صاحب مرحوم ) 15% قادیان میں ایک لڑکا حیدر آباد دکن سے تعلیم کے لئے آیا تھا۔اس کا نام عبدالکریم تھا اور وہ نیک اور شریف لڑکا تھا۔اتفاق سے اسے حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں دیوانے کتے نے کاٹ لیا۔چونکہ انبیاء کرام کی سنت کے مطابق حضرت مسیح موعود کا یہ طریق تھا کہ دعا کے ساتھ ساتھ ظاہری تدبیر بھی اختیار فرماتے تھے اور بعض نام نہاد صوفیوں کی طرح جھوٹے تو کل کے قائل نہیں تھے۔آپ نے اس لڑکے کو کسولی پہاڑ پر علاج کے لئے بھجوایا اور وہ اپنے علاج کا کورس پورا کر کے قادیان واپس آ گیا اور بظاہر اچھا ہو گیا مگر کچھ عرصہ کے بعد اس میں اچانک مخصوص بیماری یعنی ہائیڈ روفوبیا (Hydrophobia) کے آثار پیدا ہو گئے۔حضرت مسیح موعود نے اس کے لئے دعا فرمائی اور ساتھ ہی مدرسہ کے ہیڈ ماسٹر کو حکم دیا کہ کسولی کے ڈاکٹر کو تار دے کر عبدالکریم کی حالت بتائی جائے اور علاج کے متعلق مشورہ پوچھا جائے۔کسولی سے تار کے ذریعہ جواب آیا کہ: Sorry! Nothing can be done for Abdul Karim یعنی افسوس ہے کہ بیماری کے حملہ کے بعد عبدالکریم کا کوئی علاج نہیں اس پر حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ: ان کے پاس علاج نہیں مگر خدا کے پاس تو علاج ہے“ چنانچہ حضور نے بڑے درد کے ساتھ اس بچے کی شفایابی کے لئے دعا فرمائی اور ظاہری علاج کے طور پر خدائی القا کے ماتحت کچھ دوا بھی دی۔خدا کی قدرت سے یہ بچہ حضور کی دعا سے بالکل تندرست ہو گیا یا یوں کہو کہ مردہ زندہ ہو گیا اور اس کے بعد وہ کافی لمبی عمر پا ک فوت ہوا۔تتمہ حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 481) اس واقعہ کے تعلق میں ایک اور ضمنی واقعہ بھی دلچسپ اور قابلِ ذکر ہے۔میجر سید حبیب اللہ شاہ صاحب مرحوم جب لاہور میڈیکل کالج میں پڑھتے تھے اور کلاس میں ہائیڈ روفوبیا (Hydrophobia) کی بیماری کا ذکر آیا تو حبیب اللہ شاہ صاحب مرحوم نے اپنے ایک ہم جماعت طالب علم سے عبدالکریم کا واقعہ بیان کیا۔ان کے کلاس فیلو نے ضد میں آکر ان سے کہا کہ یہ کوئی بات نہیں۔ہائیڈ روفوبیا کا علاج بھی ہوسکتا ہے۔