مضامین بشیر (جلد 4) — Page 163
مضامین بشیر جلد چہارم آسماں سے ہے چلی توحید خالق کی ہوا دل ہمارے ساتھ ہیں گو منہ کریں بک بک ہزار 163 ( براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحه 131-132 ) میں اس موقع پر یورپ اور امریکہ اور افریقہ کے احمدی مبلغوں سے کہتا ہوں کہ یہ نہ سمجھو کہ غیر احمدی مسلمانوں نے وفات مسیح کی بحث کا میدان چھوڑ دیا ہے اس لئے یہ بحث اب ختم ہو گئی ہے۔یہ بحث اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتی جب تک کہ مسیحیت اپنے موجودہ عقائد کے ساتھ زندہ ہے۔پس چاہئے کہ قرآن سے اور حدیث سے اور تاریخ سے اور مسیحی صحیفوں سے اور قدیم کتبات سے اور مدفون گنجینوں سے اور عقلی دلائل سے خدا کی نصرت چاہتے ہوئے مسیح کو فوت شدہ ثابت کرنے کے پیچھے لگے رہوتا وقتیکہ مسیح جو حقیقتاً فوت ہو چکا ہے یورپ اور امریکہ اور دوسری عیسائی قوموں کی نظروں میں بھی فوت شدہ ثابت ہو جائے اور اسلام اور مقدس بانی اسلام کے نام کا بول بالا ہو اور یقین رکھو کہ بالآخر یہ ہوکر رہے گا کیونکہ: قضائے آسمان است ایں بہر حالت شود پیدا 13 حضرت مفتی محمد صادق صاحب ہی روایت کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ: ” ہمارے بڑے اصول دو ہیں۔اول خدا کے ساتھ تعلق صاف رکھنا اور دوسرے اس کے بندوں کے ساتھ ہمدردی اور اخلاق سے پیش آنا۔“ (ذکر حبیب صفحہ 180 ) آپ کی ساری زندگی انہی دو اصولوں کے اردگرد چکر لگاتی تھی۔آپ نے خدا کی تو حید کو قائم کرنے اور خالق و مخلوق کے تعلق کو بہتر بنانے میں اپنی انتہائی کوشش صرف کی اور اس کے لئے اپنی تمام طاقتوں کو وقف کر دیا۔بسا اوقات فرمایا کرتے تھے کہ دوسرے مذاہب تو خدا کے حقیقی تصور سے ہی بریگانہ ہیں اور کئی قسم کی مشرکانہ باتوں میں پھنس کر اپنی روحانیت کو ختم کر چکے ہیں مگر مسلمان کہلانے والے بھی موجودہ زمانہ کے مادی ماحول کی تاریکیوں میں بھٹک کر خدا کو بھول چکے ہیں اور اس کی عظیم الشان طاقتوں سے نا آشنا ہیں۔فرمایا کرتے تھے کہ خدا ایک زندہ حی و قیوم، قادر و متصرف ہستی ہے جو اپنے بچے پرستاروں کے ساتھ دوستانہ اور مربیا نہ تعلق رکھتا ہے۔وہ ان کی باتوں کو سنتا اور اپنے شیریں کلام سے ان کو مشرف کرتا اور تکلیف اور مصیبت کے وقت ان کی مدد فرماتا ہے۔چنانچہ اس پاک گروہ کا ذکر کرتے ہوئے جس میں آپ خود بھی شامل