مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 162 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 162

مضامین بشیر جلد چهارم 162 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس ایک کمرہ میں بیٹھے تھے اور حضور کوئی تصنیف فرمارہے تھے کہ کسی شخص نے بڑے زور سے دروازے پر دستک دی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مفتی صادق صاحب سے فرمایا کہ آپ دروازہ پر جا کر معلوم کریں کہ کون ہے اور کیا پیغام لایا ہے۔مفتی صاحب نے دروازہ کھولا تو دستک دینے والے صاحب نے بتایا کہ مجھے سید محمد احسن صاحب امروہی نے بھجوایا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ خوشخبری سناؤں کہ فلاں شہر میں ایک غیر احمدی مولوی کے ساتھ مولوی صاحب کا مناظرہ ہوا ہے اور مولوی صاحب نے اسے مناظرہ میں شکست فاش دی ہے اور بہت رگیدہ اور بالکل لا جواب کر دیا۔مفتی صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب میں نے حضرت مسیح موعود کی خدمت میں یہ بات پہنچائی تو حضور نے مسکرا کر فرمایا: میں اس زور دار دستک سے سمجھا تھا کہ یورپ مسلمان ہو گیا ہے اور یہ اس کی خبر لائے ہیں۔“ (سیرۃ المہدی روایت نمبر 202 وذکر حبیب مرتبہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب) یہ غالباً ایک وقتی لطیفہ کی بات تھی مگر اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یورپ کے مسلمان ہونے کا اتنا خیال تھا کہ آپ اپنے لئے حقیقی خوشی صرف اسی بات میں سمجھتے تھے کہ مسیحیت کابت ٹوٹے اور یورپ اسلام کے حلقہ بگوشوں میں شامل ہو جائے۔اسی زبر دست جذ بہ بلکہ خدائی القاء کے ماتحت اپنی ایک نظم میں فرماتے ہیں: ہے آسماں پر دعوتِ حق کے لئے اک جوش ہو رہا ہے نیک طبعوں پر فرشتوں کا اُتار ارہا ہے اس طرف احرار یورپ کا مزاج نبض پھر چلنے لگی مردوں کی ناگہ زندہ وار کہتے ہیں تثلیث کو اب اہل دانش الوداع پھر ہوئے ہیں چشمه توحید پر از جاں نثار باغ میں ملت کے ہے کوئی گل رعنا کھلا آئی ہے باد صبا گلزار سے مستانہ وار آ رہی ہے اب تو خوشبو میرے یوسف کی مجھے گو کہو دیوانہ میں کرتا ہوں اس کا انتظار