مضامین بشیر (جلد 4) — Page 154
مضامین بشیر جلد چهارم 154 سے مامور ہے کہ خدا نے مجھے بھیجا ہے اور وہی میری حفاظت کرے گا۔یہ وہ صبر و استقلال تھا جس پر آپ کے اشد ترین مخالف تک پکار اٹھے کہ مرزا صاحب صادق ہوں یا غیر صادق مگر اس میں کلام نہیں کہ وہ جس مشن کو لے کر اُٹھے تھے اس پر اپنی زندگی کے آخری دم تک مضبوط چٹان کی طرح قائم رہے۔چنانچہ آپ کی وفات پر ایک ہندو اخبار نے لکھا کہ: مرزا صاحب اپنے آخری دم تک اپنے مقصد پر ڈٹے رہے اور ہزاروں مخالفتوں کے باوجود ذرا بھی لغزش نہیں کھائی۔“ اسی طرح ایک عیسائی مصنف نے لکھا کہ: ( آرید اخبار ”اندر“۔لاہور ) ”مرزا صاحب کی اخلاقی جرات جو انہوں نے اپنے مخالفوں کی طرف سے شدید مخالفت اور ایذارسانی کے مقابلہ میں دکھائی یقیناً بہت قابل تعریف ہے۔“ (انگریزی رسالہ احمدیہ موومنٹ مصنفہ مسٹر ایچ۔اے والٹر ) اور ایک غیر احمدی مسلمان اخبار نے لکھا کہ : وو مرزا مرحوم نے مخالفتوں اور نکتہ چینیوں کی آگ میں سے ہو کر اپنا رستہ صاف کیا اور ترقی کے انتہائی عروج تک پہنچ گیا۔“ ( کرزن گزٹ دتی ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ وصف جہاں ایک طرف آپ کے غیر معمولی صبر و استقلال پر شاہد ہے وہاں وہ اس بات کی بھی زبر دست دلیل ہے کہ آپ کو اپنے بھیجنے والے خدا کی نصرت پر کامل بھروسہ تھا کہ جو پودا اس نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے وہ اسے کبھی ضائع نہیں ہونے دے گا۔چنانچہ ایک جگہ فرماتے ہیں: اے آنکہ سوئے من بد ویدی بصد تبر از باغباں بنترس که من شارخ مثمرم (ازالہ اوہام) یعنی اے وہ جو میری طرف غصہ سے بھرا ہوا سو خنجر لے کر بھاگا آتا ہے تو آسمانی باغباں سے ڈر کہ میں اس کے ہاتھ سے لگایا ہوا پھل دینے والا پودا ہوں۔جماعت احمدیہ کے نوجوانوں اور مقامی جماعتوں کے امیروں اور انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کے عہدہ داروں اور سب سے بڑھ کر جماعت کے مبلغوں اور مربیوں اور مرکزی کا رکنوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام