مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 145 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 145

مضامین بشیر جلد چہارم 145 حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی کے اوصاف حمیدہ حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدیم ترین صحابہ میں سے تھے اور ان کو یہ غیر معمولی امتیاز بھی حاصل تھا کہ جبکہ حضرت بھائی صاحب بالکل نوجوان بچہ ہی تھے ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیک وقت ہندو مذہب ترک کر کے اسلام قبول کرنے اور احمدیت کی نعمت حاصل کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔اور پھر ایک بہت لمبا عرصہ قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت کا موقع میسر آیا۔چنانچہ جب 1908ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا لاہور میں وصال ہوا تو اس وقت بھی حضرت بھائی صاحب حضور کے ساتھ تھے بالآخر ملکی تقسیم کے بعد حضرت بھائی صاحب کو قادیان میں درویشی کی نعمت نصیب ہوئی۔آج کل چند دن کے لئے پاکستان تشریف لائے ہوئے تھے۔ربوہ کے قیام کے بعد اپنے بچوں کو ملنے کے لئے کراچی جارہے تھے کہ راستے میں خدا کو پیارے ہو گئے۔وفات کے وقت عمر غالباً چھیاسی سال تھی۔نہایت مخلص اور محبت کرنے والے فدائی بزرگ تھے۔بیعت غالباً 1895 ء کی تھی۔جنازہ لاہور کے راستہ ربوہ لایا جارہا ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت بھائی صاحب کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ان کی اہلیہ صاحبہ اور اولاد کا دین و دنیا میں حافظ و ناصر ہو۔درویشی کے زمانہ میں ان کی اہلیہ صاحبہ نے اپنی ضعیفی کے باوجود حضرت بھائی صاحب کی بڑی خدمت سرانجام دی ہے۔اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے اور احمدیت کے نوخیز نو جوانوں کو رفقاء کرام کا بابرکت ورثہ پانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین اب تو یہ مبارک گروہ بہت ہی کم رہ گیا ہے وَكُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَـان وَ يَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَام - (نوٹ ) بعد میں حضرت بھائی صاحب کے چھوٹے لڑکے مہتہ عبدالسلام صاحب کا فون آیا ہے کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ بھائی جی کے جنازے کو قادیان لے جانے کی اجازت مل جائے۔اگر یہ اجازت مل گئی تو بہت اچھا ہوگا کیونکہ حضرت بھائی صاحب مرحوم کی شدید خواہش تھی کہ وہ قادیان میں دفن ہوں اور اسی وجہ سے وہ ہمیشہ پاکستان آتے ہوئے گھبراتے تھے کہ کہیں میری وفات قادیان سے باہر نہ ہو جائے۔محرره 6 جنوری 1961ء) (روز نامہ الفضل ربوہ 7 جنوری 1961ء)