مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 142 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 142

مضامین بشیر جلد چهارم یاد رکھنا چاہئے کہ تربیت کا زمانہ بچے کی ولادت کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے۔اسی لئے ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی ہے کہ جب کوئی بچہ پیدا ہو تو اس کے پیدا ہوتے ہی اس کے دائیں کان میں اذان کے الفاظ دُہرائے جائیں اور اُس کے بائیں کان میں اقامت کے الفاظ دُہرائے جائیں۔اس حدیث میں اذان ایمان کی قائم مقام ہے اور اقامت عمل کی قائم مقام ہے۔گویا یہ تعلیم دی گئی ہے کہ بچے کے پیدا ہوتے ہی اس کے ایمان اور عمل کی تربیت کا زمانہ شروع ہو جاتا ہے اور ماں باپ کو شروع سے ہی اس کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔بعض والدین اس غلطی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ پیدا ہونے والا بچہ تو گویا صرف گوشت کا ایک لوتھڑا ہوتا ہے اور بعد میں بھی وہ کئی سال تک دینی اور اخلاقی باتوں کو سمجھنے کے قابل نہیں ہوتا۔مگر ایسا خیال کرنا بڑی غلطی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ غیر شعوری طور پر ولادت کے ساتھ ہی تاثر اور تاثیر کا زمانہ شروع ہو جاتا ہے اور والدین کا فرض ہے کہ اسی زمانہ سے بچوں کی تربیت کا خیال رکھیں اور نگرانی شروع کر دیں۔حضرت مرزا بشیر احمد از مضامین بشیر جلد چہارم صفحه (275 142