مضامین بشیر (جلد 4) — Page 132
مضامین بشیر جلد چهارم 132 پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔جس کے نتیجہ میں ہمارا مسلک بالکل ظاہر وعیاں ہے اور ہمیں خدا کے فضل سے کسی پریشانی اور کسی الجھن میں مبتلا ہونے اور کسی کے سامنے شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں۔نہ صرف یہ کہ ہمارا سراونچا ہے بلکہ ہمارا ضمیر بھی بالکل صاف اور پاک ہے۔وَ ذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ وَلَا فَخْرَ۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمُ (النساء:60) یعنی اے مومنو! تم پر واجب ہے کہ خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اس کے علاوہ جو لوگ تم میں حاکم ہوں ان کے بھی فرمانبردار ہو۔اس اصولی آیت میں جو منکم کا لفظ آتا ہے ( یعنی تم میں ) اس سے یہ شبہ نہیں کرنا چاہئے کہ صرف ایسے حاکموں کی اطاعت فرض ہے جو مومن اور مسلمان ہوں بلکہ یہ آیت ایک اصول کے رنگ میں ہے اور من کا لفظ عربی زبان میں عام طور پر فینی کے معنی میں بھی آتا ہے اور مراد یہ ہے کہ جو لوگ تم میں اُولِسی الامر یعنی صاحب حکومت ہوں ان کی اطاعت ہر سچے مسلمان پر واجب ہے۔علاوہ ازیں اس آیت میں حاکم اور محکوم کو ایک گروپ کی صورت میں پیش کیا گیا ہے اور مقصد یہ ہے کہ تم میں سے بعض حاکم ہیں اور بعض محکوم ہیں۔پس جو بھی حاکم ہے اس کی اطاعت کرو اور ظاہر ہے کہ اس حکم میں مسن اور فٹ کی بحث کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بائی سلسلہ احمدیہ اس کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: قرآن شریف میں حکم ہے اَطِيْعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمُ (النساء: (60) یہاں اُولی الامر کی اطاعت کا صاف طور پر حکم ہے۔اور اگر کوئی کہے کہ منکم میں (غیر مسلم ) گونمنٹ شامل نہیں تو یہ اس کی صریح غلطی ہوگی۔گورنمنٹ جو حکم شریعت کے مطابق دیتی ہے (یعنی اس کے احکام میں شریعت کے احکام سے صریح ٹکراؤ نہیں پایا جاتا ) وہ اسے مِنكُمُ میں داخل کرتا ہے۔مثلاً جو شخص ہماری مخالفت نہیں کرتا وہ دراصل ہم میں داخل ہے۔پس اشارۃ النص کے طور پر قرآن سے ثابت ہے کہ گورنمنٹ کی اطاعت کرنی چاہئے۔“ اسی طر حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: (روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 261) مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ يَعْصِنِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَمَنْ اللَّهَ وَمَنْ يُطِعِ الْأَسِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي وَمَنْ يَعْصِ الْأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي - مسلم کتاب الامارۃ باب وجوب اطاعت الامارة في غير )