مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 131 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 131

مضامین بشیر جلد چهارم 131 ملک اور اپنے عہدہ کے مفاد کو مقدم رکھیں گے یا کہ اپنے عقیدہ کو ترجیح دیتے ہوئے اپنے مذہبی پیشوا پوپ کی ہدایت پر عمل کریں گے؟ مسٹر کینیڈی ایک بہت ہوشیار آدمی ہیں انہوں نے اس بحث میں یہ جواب دے کر اپنی جان چھڑائی کہ اگر کبھی اس قسم کے ٹکراؤ اور تضاد کی صورت پیدا ہوئی تو میں عہدہ صدارت سے استعفیٰ دے دوں گا۔(اخبار ٹائم نیویارک امریکہ صفحہ 11 اشاعت مؤرخہ 26 ستمبر 1960ء) اس جواب سے امریکہ کے بیشتر سیاسی حلقوں میں تسلی کی صورت پیدا ہوگئی اور مسٹر کینیڈی اپنے حریف مسٹر نکسن کے مقابلہ میں کامیاب ہو کر امریکہ کے نئے صدر بن گئے اور آئندہ چار سال تک وہی امریکہ کے مدارالمہام ہوں گے۔بلکہ ایک طرح سے دنیا بھر کی سیاست کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں رہے گی۔یا یوں کہو کہ سیاست عالم کی رتھ کے بیلوں میں سے ایک بیل کی باگ ڈوران کے ہاتھ میں ہوگی اور دوسرے بیل کی باگ ڈور بدستور روس کے آمر مطلق کے ہاتھ میں رہے گی اور یا جوج ماجوج کی اس کشمکش میں دنیا کا حافظ خدا ہے۔لیکن اگر غور کیا جائے تو مسٹر کینیڈی کا یہ جواب ان کے اپنے معتقدات کی رو سے بھی درست جواب نہیں تھا۔ان کو حضرت مسیح ناصرٹی کے مشہور قول کے مطابق یہ جواب دینا چاہئے تھا کہ: جو قیصر کا ہے قیصر کو دو اور جو خدا کا ہے خدا کو ادا کرو (متی باب 22 آیت 21 و 22) مگر شاید مسٹر کینیڈی اپنے ملک کے ووٹروں سے ڈر گئے کہ کہیں حضرت مسیح کے قول کے مطابق جواب دینے سے ان کے لئے امریکہ کے سیاسی حلقوں میں کوئی پیچیدگی پیدا نہ ہو جائے۔حالانکہ حضرت مسیح کا نظر یہ بالکل واضح ہے کہ حقوق کے مختلف میدان ہوتے ہیں اور ہر میدان سے تعلق رکھنے والی ذمہ داریاں بھی مختلف ہوا کرتی ہیں اور اگر انسان ان ذمہ داریوں کو سمجھ بوجھ اور دیانتداری کے ساتھ ادا کرے تو کوئی ٹکراؤ کی صورت پیدا نہیں ہوسکتی۔لیکن چونکہ حضرت مسیح ناصری کی بعثت عالمگیر نہیں تھی اور صرف اسرائیلی اقوام تک محدود تھی اس لئے انہوں نے اپنے جواب کو صرف اپنے ملک اور اپنی قوم کے مخصوص حالات تک محدود رکھا اور قیصر روما کی مثال سے آگے نہیں گئے اور نہ ہی اس اصول کی تشریح فرمائی اور غالبا ایسی تشریح ان کے لئے ممکن بھی نہیں تھی۔لیکن اسلام اور احمدیت کا مشن عالمگیر ہے اس لئے خدا کے فضل سے ہمارے تعلیم میں اس مسئلہ کی پوری پوری تشریح موجود ہے۔اور اسے ایک وسیع اصول کے طور پر بیان کر کے اس کے سارے امکانی