مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 116 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 116

مضامین بشیر جلد چہارم قرآن خود یہ دعا سکھاتا ہے کہ: 116 رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةٌ وَّ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقره: 202) یعنی اے ہمارے خدا تو ہمیں دنیا کی نعمتوں سے بھی حصہ دے اور دین کی نعمتوں سے بھی حصہ دے اور ہمیں اس عذاب سے بچا کہ ہم دوسروں کی ترقی دیکھ کر حسد کی آگ میں جلتے رہیں۔پس اسلام دنیا کی نعمتیں حاصل کرنے سے بالکل نہیں روکتا۔مگر اسلام یہ حکم ضرور دیتا ہے کہ جہاں دنیا اور دین میں ٹکراؤ ہو جائے وہاں دین کے پہلو کو مقدم کرو۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیعت کے عہد میں یہ اقرار لیا کرتے تھے کہ ” میں دین کو دنیا پر مقدم کروں گا۔اور فرمایا کرتے تھے کہ ایک سچے مومن کا یہی مقام ہے کہ دست با کا رو دل بایار۔کاش انصار اللہ اس نکتہ کو یا درکھیں اور اسے اپنا حرز جان بنائیں۔وہ بے شک دنیا کا علم حاصل کریں، دنیا کا رزق کمائیں اور اس میدان میں ترقی کریں۔شادیاں رچا ئیں، اولاد پیدا کریں اور ہر قسم کی جائز تفریحات میں حصہ لیں مگر اس مرکزی نکتہ سے کبھی ادھر اُدھر نہ ہوں کہ دین بہر حال دنیا پر مقدم رہنا چاہئے۔اگر یہ نہیں تو ہمارا احمدیت کا دعویٰ جھوٹا ہے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اپنے مخصوص انداز میں فرمایا کرتے تھے کہ ہر نبی اور ہر مامور من اللہ کا ایک کلمہ ( یعنی اس کی تعلیم کا ایک مرکزی نقطہ ) ہوا کرتا ہے۔مرزا کا کلمہ یہ ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔حضرت خلیفہ اول کا یہ قول آب زر سے لکھنے کے قابل ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود کی ساری تعلیم کا نچوڑ واقعی ان مختصر سے الفاظ میں مرکوز ہے۔اور یقیناً اس پر عمل کرنے والے انسان کی کا یا پلٹ جاتی ہے۔آپ لوگ اس پر مضبوطی سے قائم ہو جائیں پھر سب خیر ہے۔ایک ضمنی مگر ضروری بات میں آپ صاحبان سے پردہ کے متعلق بھی کہنا چاہتا ہوں خواہ یہ انصار اللہ کے اجتماع کے لحاظ سے کچھ بے موقع ہی معلوم ہو۔میں نے گزشتہ ایام میں لاہور کے قیام میں دیکھا ہے اور دوسرے شہروں کے متعلق سنا ہے کہ احمدی نوجوانوں کا ایک طبقہ دوسرے مسلمانوں کی ریس میں پردہ کے معاملہ میں کمزوری دکھا رہا ہے۔یہ ایک خطرناک رجحان ہے جس کی طرف جماعت کو بہت توجہ دینی چاہئے۔حضرت مسیح موعود کے متعلق خدا تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کہ: يُحْيِي الدِّينَ وَيُقِيمُ الشَّرِيعَةَ ( تذکرہ صفحہ 55 ایڈیشن چہارم) یعنی محمدی مسیح دین کو زندہ کرے گا اور شریعت کو قائم کرے گا پھر اگر احمدی نوجوان اس معاملہ میں کمزوری دکھا ئیں اور شریعت کے احکام کو پس پشت ڈالیں تو کتنے