مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 115 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 115

مضامین بشیر جلد چهارم 115 آپ پوری توجہ کے ساتھ اس بات کی کوشش کریں گے کہ اپنی عورتوں کو خلاف شریعت رسموں سے باز رکھیں اور اپنی اولاد کو نیکی کے رستہ پر چلائیں۔اور اپنے بچوں میں سے کم از کم ایک بچہ کو علم اور عمل میں اپنے سے بہتر بنانے اور اپنے پیچھے بہتر حالت میں چھوڑنے کی تدبیر کریں۔ہمارے سامنے یہ تلخ حقیقت موجود ہے کہ جماعت میں بعض اعلیٰ پائے کے اصحاب جو علم و فضل میں بہت اعلیٰ مقام رکھتے تھے وہ جب فوت ہوئے تو ان کے ساتھ ہی ان کا علمی اور روحانی ورثہ بھی ختم ہو گیا۔ترقی کرنے والی جماعتوں کے لئے یہ صورت حال بڑی تشویشناک ہے۔پس انصار اللہ کو چاہئے کہ اس بات کا محاسبہ کرتے رہیں اور مسلسل نگرانی رکھیں کہ ان کے پیچھے ان کی اولاد میں دین کا ورثہ ضائع نہ ہو۔یہ وہ بات ہے جس کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اپنی اولاد کے متعلق بے حد خیال تھا۔چنانچہ آپ اپنی ایک نظم میں اپنے بچوں کے متعلق فرماتے ہیں: ہو میں دیکھ لوں تقویٰ سبھی کا جب آوے وقت میری واپسی کا اس دھو کے میں نہیں رہنا چاہئے کہ چونکہ ہم خود نیک اور دین دار ہیں اس لئے ہماری اولاد بھی لازماً نیک ہوگی۔قرآن مجید فرماتا ہے: يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ (يونس:32) یعنی خدا کا یہ قانون ہے کہ مُردہ لوگوں میں سے زندہ لوگ پیدا ہو جاتے ہیں اور زندہ لوگوں کے گھر مردہ بچے جنم لیتے ہیں۔چنانچہ حضرت سلیمان کے متعلق خدا فرماتا ہے کہ : الْقَيْنَا عَلَى كُرْسِيِّهِ جَسَدًا(ص:35) یعنی جب سلیمان جو خدا کا عظیم الشان نبی تھا فوت ہوا تو اس کے تخت پر ایک گوشت کا لوتھڑا تھا۔انسان نہیں تھا۔پس یہ مقام خوف ہے اور اس کی طرف انصار اللہ کو خاص توجہ دینی چاہئے۔دوستو اور عزیز و اپنے گھروں میں علم اور دین اور تقوی کی شمع روشن رکھوتا ایسا نہ ہو کہ آپ کے بعد یہ روشنی ختم ہو جائے اور صرف اندھیرا ہی اندھیرارہ جائے۔مجھے اس وقت حضرت خلیفہ اسی ایدہ اللہ بنصرہ کا یہ دردناک شعر یاد آ رہا ہے کہ: ے ہم تو جس طرح بنے کام کئے جاتے ہیں آپ کے وقت میں یہ سلسلہ بدنام نہ ہو اسلام آپ کو دنیوی تعلیم حاصل کرنے اور دنیا کے میدان میں ترقی کی کوشش سے نہیں روکتا۔چنانچہ