مضامین بشیر (جلد 4) — Page 105
مضامین بشیر جلد چهارم گے وہ مانیں گے اور باقی خدا کے حوالے۔وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ( محررہ 28 جولائی 1960 ء) 105 روزنامه الفضل ربوہ 4 اگست 1960ء ام مظفر احمد لاہور کے ہسپتال میں مخلصین جماعت سے دعاؤں کی درخواست ڈاکٹری مشورہ کے ماتحت ہم ام مظفر احمد کو لاہور لے آئے ہیں اور میوہسپتال کے حصہ البرٹ وکٹر کے کمرہ نمبرا میں داخل کر دیا ہے۔یہاں پہنچتے ہی میوہسپتال کے مشہور سرجن ڈاکٹر امیر الدین صاحب نے ان کا معائنہ کیا اور معائنہ کے بعد تازہ ایکسرے کیا گیا۔اس ایکسرے نے اُس ایکسرے کی فی الجملہ تصدیق کی ہے جور بوہ میں لیا گیا تھا۔یعنی یہ کہ دائیں ٹانگ کی ہڈی کے بالائی حصہ میں جو ڈاکٹری اصطلاح میں نیک آف فیمر (Neck of Femur) کہلاتا ہے فریکچر ہو گیا ہے۔ڈاکٹر امیر الدین صاحب نے فی الحال ام مظفر احمد کی یہ ٹانگ عارضی طور پر ایک لوہے کے فریم میں باندھ دی ہے اور پاؤں کو بھی اوپر اٹھا کر فریم میں لڑکا دیا ہے تا کہ اس ٹانگ پر زور نہ پڑے اور حرکت بھی نہ ہو۔ڈاکٹر امیرالدین صاحب کا خیال ہے کہ دو تین دن کے مشاہدہ اور معائنہ کے بعد اصل علاج کیا جائے گا۔ان کا یہ بھی خیال ہے کہ درد کی شدت یہ شبہ پیدا کرتی ہے کہ شائد کسی اور جگہ بھی چوٹ کا اثر ہوا ہو جس کا پتہ لینا ضروری ہے۔بے چینی بدستور ہے مگر کمزوری کے بڑھ جانے سے اس کے اظہار کی طاقت کم ہوگئی ہے۔گزشتہ رات کا اکثر حصہ بے خوابی میں گزرا اور منہ پر کچھ ورم بھی ہے اور اجابت ابھی تک نہیں ہوئی۔جیسا کہ احباب کو علم ہے اتم مظفر احمد قریباً 5 سال سے مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہوکر بہت کمزور ہو چکی ہیں اور اکثر وقت درد اور بے چینی میں گزرتا رہا ہے اور چلنے پھرنے سے بھی معذور ہیں۔ان کی سابقہ بیماریوں میں ریڑھ کی ہڈی کے ایک منکے کا اپنی جگہ سے سرک جانا (Displaced Disk) اور پتہ میں پتھری اور اعصابی درد اور بلڈ پریشر اور رعشہ وغیرہ شامل ہیں۔اس پر موجودہ خطرناک حادثہ نے بہت اضافہ کر دیا ہے اور وہ کافی کمزور ہو چکی ہیں اور بہت فکر مند اور بہت پریشان رہتی ہیں اور ان کی اس حالت کا لازماً