مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 104 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 104

مضامین بشیر جلد چہارم 104 جائے اور لڑکیوں پر کسی قسم کا دباؤ بھی نہ ڈالا جائے تو بے شک فریقین کی رضا مندی اور شرح صدر سے ایسا ہو سکتا ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کا خوب فرمایا ہے کہ: مگر مشکل یہی ہے درمیاں میں کہ گل بے خار کم ہیں بوستاں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کی بات ہے کہ ایک احمدی نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ یا حضرت! میری بیوی نے اپنی خوشی سے مجھے اپنا مہر معاف کر دیا ہے۔حضور نے فرمایا ”ہم ایسی معافی کو جائز نہیں سمجھتے۔آپ اپنی بیوی کو مہر ادا کر دیں اور پھر اس کے بعد اگر وہ اپنی خوشی سے آپ کو مہر کی رقم واپس کر دے تو تب جائز ہوگا۔یہ صاحب کہیں سے قرض لے کر دوڑتے ہوئے اپنی بیوی کے پاس گئے اور اس کی جھولی میں مہر کی رقم ڈال دی اور پھر چند سیکنڈ انتظار کرنے کے بعد بیوی سے کہا کہ تم نے تو مہر معاف کر دیا ہوا ہے۔اب یہ رقم مجھے واپس کر دو۔اس نے کہا واہ! اب میں کیوں واپس کروں؟ میں تو سمجھتی تھی کہ آپ نے مہر دینا ہی نہیں اس لئے مفت کا احسان کیوں نہ رکھوں۔لیکن اب جب آپ نے مہر دے دیا ہے تو یہ میرا حق ہے میں اسے واپس نہیں کرتی۔بس یہی بات میں والدین اور بھائیوں سے بھی کہتا ہوں کہ فرضی معافیوں اور فرضی ادائیگیوں سے اپنے نفسوں کو دھوکا نہ دو۔یہ سب باتیں تقویٰ اور دیانت کے خلاف اور چالا کی اور ریا کاری میں داخل ہیں اور مومن کی شان سے کوسوں دور۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کشتی نوح میں فرماتے ہیں: تم ریا کاری کے ساتھ اپنے تئیں بچا نہیں سکتے کیونکہ وہ خدا جو تمہارا خدا ہے اس کی انسان کے پاتال تک نظر ہے۔کیا تم اس کو دھوکا دے سکتے ہو؟ پس تم سیدھے ہو جاؤ اور صاف ہو جاؤ اور پاک ہو جاؤ اور کھرے ہو جاؤ۔اگر ایک ذرہ تیرگی بھی تم میں باقی ہے تو وہ تمہاری ساری روشنی کو دور کر دے گی ایسا نہ ہو کہ تم صرف چند باتوں کو لے کر اپنے تئیں دھوکا دو کہ جو کچھ ہم نے کرنا تھا کر لیا ہے۔کیونکہ خدا چاہتا ہے کہ تمہاری ہستی پر پورا پورا انقلاب آوئے۔۔نفسانیت کی فربہی کو چھوڑ دو کہ جس دروازے کے لئے تم بلائے گئے ہو اس میں ایک فربہ انسان داخل نہیں ہو سکتا۔کیا ہی بد قسمت وہ شخص ہے جو ان باتوں کو نہیں مانتا جوخدا کے منہ سے نکلیں اور میں نے بیان کیں۔“ کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحه 12) بس اسی پر میں اپنے اس نوٹ کو ختم کرتا ہوں۔جن کے کان ہوں گے وہ سنیں گے اور جن کے دل ہوں