مضامین بشیر (جلد 4) — Page 95
مضامین بشیر جلد چهارم 95 اور ہم سب امید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضور کو صحت دے کر پھر پہلے کی طرح فعال زندگی عطا کرے گا۔اور اگر حضور کے متعلق کوئی وعدہ ابھی تک پورا ہونے والا باقی ہے تو وہ بھی انشاء اللہ ضرور پورا ہوگا۔اور بہر حال اسلام کا قدم درجہ بدرجہ ترقی اور بلندی کی طرف اٹھتا چلا جائے گا تا وقتیکہ دائی اور عالمگیر غلبہ کا دن آجائے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام اپنی کامل شان میں پورا ہو کہ: بخرام که وقت تو نزدیک رسید و پائے محمد یاں بر منار بلند تر محکم افتاد (2) آپ کا دوسرا سوال حضرت خلیفتہ اُسی اول رضی اللہ عنہ کی اولاد کے متعلق ہے۔آپ نے لکھا ہے کہ آپ سنتے آئے ہیں کہ کسی متقی اور صالح انسان کی اولادکو خداسات پشتوں تک بھوکا نہیں مرنے دیتا۔سو بے شک یہ بات عام حالات میں درست ہے مگر آپ کو یہ کس نے بتایا کہ حضرت خلیفتہ المسیح اول کی اولاد بھوکی مر رہی ہے؟ انہیں خدا کے فضل سے کافی رزق مل رہا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ انشاء اللہ وہ رزق سے محروم نہیں ہوں گے۔باقی رہاہدایت اور گمراہی کا معاملہ سواس کو آپ کے موجودہ سوال سے کوئی تعلق نہیں۔کیا حضرت نوح کا بیٹا جو ہدایت سے محروم رہا ایک نبی کی اولاد نہیں تھا ؟ اور حضرت سلیمان کا بیٹا جسے خدا نے قرآن میں گوشت کے ایک لوتھڑے سے تشبیہ دی ہے نبی کی اولاد نہیں تھا؟ اور کیا ہمارا بھائی مرز افضل احمد جو احمدیت سے محرومی کی حالت میں ہی فوت ہو گیا ایک مرسل من اللہ کی اولاد نہیں تھا ؟ پس آپ ان دو مختلف باتوں کو خلط ملط کر کے پریشان نہ ہوں کیونکہ رزق کا معاملہ جدا گانہ ہے اور ہدایت اور گمراہی کا معاملہ بالکل جدا گانہ ہے۔باقی رہا یہ سوال کہ جب خدا تعالیٰ صالح لوگوں کی اولاد کے لئے مادی رزق کا سامان مہیا کرتا ہے تو روحانی رزق کا سامان مہیا کیوں نہیں کرتا حالانکہ روحانی رزق زیادہ ضروری اور زیادہ افضل ہے؟ سو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے خدا کے مادی نظام اور روحانی نظام کے باریک فرق کو گہری نظر سے مطالعہ نہیں کیا۔مادی رزق تو خدا کے خالق ہونے کی صفت سے تعلق رکھتا ہے جو سب مخلوق کے لئے عام ہے اور نیک اور بد سب اس میں حصہ دار ہیں۔مگر روحانی رزق کے لئے خدا کی یہ سنت ہے کہ بندوں کی ہدایت کا سامان تو وہ ضرور سب کے لئے یکساں مہیا کرتا ہے مگر جبر سے کام لے کر انہیں زبردستی ہدایت کی طرف کھینچ کر نہیں لاتا تاکہ نیک و بد میں تمیز قائم رہے اور جزا سزا کا استحقاق واضح ہو جائے۔اسی لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل کے ذکر میں خدا تعالیٰ نے صراحت فرمائی ہے کہ دنیا کا رزق تو ہم سب کو دیں گے مگر دین کے رستہ میں مجرموں کو سزا کے بغیر بھی نہیں چھوڑیں گے۔(البقرہ: 127)