مضامین بشیر (جلد 4) — Page 87
مضامین بشیر جلد چهارم مبنی تھا۔طعن نہیں تھا۔87 باقی رہا یہ قرآنی ارشاد کہ وَلَا تَنَابَزُوا بالألقاب (الحجرات: 12) سو یہ بالکل درست ہے۔مگر یہ ایسے لوگوں کے متعلق ہے جو بلا سوچے سمجھے دوسرے لوگوں کا بلا وجہ بیاعادتا کوئی نام رکھ دیتے ہیں۔اور اس میں طعن اور استہزاء کا طریق اختیار کرتے ہیں۔پس فرق ظاہر ہے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ابو جہل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو محمد کی بجائے نعوذ باللہ مذتم کہ کر پکارا کرتا تھا۔سوا بوجہل کا نام خدا کی طرف سے اس کے اس ناپاک طعن کا جواب تھا اسے عام لوگوں کے القاب دینے سے کوئی دور کی بھی نسبت نہیں۔(2) دوسرا سوال آپ کا یہ ہے کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے خلافت سے دستبرداری کو خدائی منشاء اور ارشاد نبوی کے خلاف جانا اور سختی سے انکار کیا۔بلکہ اس کی وجہ سے مرنا تک قبول کیا تو حضرت امام حسن نے کیوں خلافت سے دستبرداری دے دی؟ سواس کے متعلق یہ یا درکھنا چاہئے کہ اول تو حضرت عثمان نے اپنے متعلق خدا اور رسول کے اس ارشاد کی تعمیل کی کہ ”خدا تمہیں ایک قمیص پہنائے گا اور لوگ اسے اتارنا چاہیں گے مگر تم اسے نہ اتارنا اور اس کے مقابل پر حضرت امام حسنؓ نے اپنے متعلق رسول کے ارشاد کو پورا کیا جو یہ تھا کہ ” میرا یہ بیٹا دو مسلمان گروہوں میں صلح کرائے گا۔پس دونوں سرخرو ہو گئے اور کوئی اعتراض نہ رہا۔علاوہ ازیں حضرت امام حسنؓ کی خلافت سے دستبرداری اپنی خلافت کے استحکام سے پہلے تھی۔اور استحکام سے پہلے کی دستبرداری جو ایک نیک غرض سے کی گئی ہو اور اس میں اعلیٰ جماعتی مفاد مقصود ہوں اور خلیفہ برضائے خود اس پر اتفاق کر جائے قابلِ اعتراض نہیں۔قرآن شریف نے وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمْ (النور: 56) کے الفاظ میں یہی ارشاد فرمایا ہے کہ تمکنت کے بعد خلافت کا استحکام ہوتا ہے۔اور چونکہ حضرت امام حسن کا یہ فعل تمکنت سے پہلے تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق تھا اس لئے اس پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔مزید وضاحت کے لئے آپ اس بارے میں میری کتاب ”سیرت خاتم النبین حصہ دوم‘“ کا آخری باب بھی جو خلافت کے متعلق ہے ضرور ملاحظہ کریں۔اس سے ظاہر ہوگا کہ حضرت امام حسنؓ کی دستبرداری خلافت کے استحکام اور تمکنت سے پہلے تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے عین مطابق تھی۔مگر