مضامین بشیر (جلد 4) — Page 57
مضامین بشیر جلد چهارم 57 تیز آندھی ہے جو کسی روک کو خیال میں نہیں لاتی۔اور رمضان کے آخر میں صدقتہ الفطر تو بہر حال ہر غریب و امیر خورد و کلاں اور مردوزن پر فرض ہے۔(10 ) رمضان کا آخری عشرہ اپنی برکات اور قبولیت دعا کے لئے خصوصی تا ثیر رکھتا ہے۔اس لئے اس عشرہ میں نوافل اور ذکر الہی اور دعا اور تلاوت قرآن مجید اور درود پر بہت زور دینا چاہئے۔اور جن دوستوں کو توفیق ملے اور ضروری فرائض منصبی میں حرج نہ لازم آتا ہو وہ آخری عشرہ میں اعتکاف بیٹھ کر بھی اس کی مخصوص روحانی برکات سے فائدہ اٹھائیں۔ورنہ کم از کم اس عشرہ کی راتوں اور خصوصا طاق راتوں میں خصوصیت کے ساتھ نوافل اور ذکر الہی اور دعاؤں پر زور دیں تا کہ اگر خدا چاہے وہ مبارک رات میسر آ جائے جو عمر بھر کی راتوں سے زیادہ با برکت شمار کی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس رمضان کی برکات سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کی توفیق دے تا کہ جب رمضان گزر جائے تو خدا کے فرشتے ہمیں ایک بدلی ہوئی مخلوق پائیں اور ہمارے لئے دین و دنیا میں غیر معمولی ترقی کے راستے کھل جائیں۔آمِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ( محرره 5 مارچ 1960ء) روزنامه الفضل ربوہ 9 مارچ 1960ء) 14 رساله سيرة طيبه احباب اور جماعتیں توجہ فرمائیں اس سال جلسہ سالانہ کے موقع پر میں نے جو تقریر ذکر حبیب“ کے موضوع پر پڑھی تھی وہ اب سیرۃ طیبہ کے نام سے رسالہ کی صورت میں چھپ رہی ہے۔اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اخلاق فاضلہ کے تین نمایاں پہلوؤں پر مختصر مگر خدا کے فضل سے دلچسپ اور جامع بحث آگئی ہے۔جسے حضور کے منتخب اقوال اور حضور کی زندگی کے چیدہ چیدہ واقعات کے ذکر سے مزین کیا گیا ہے۔یہ تین پہلو ( اول ) محبتِ البی ( دوم ) عشق رسول اور ( سوم ) شفقت علی خلق اللہ سے تعلق رکھتے ہیں۔اور ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہی تین پہلوا یک مسلمان کے دین ومذہب کی جان ہیں۔