مضامین بشیر (جلد 4) — Page 46
مضامین بشیر جلد چهارم 46 ان آنکھوں سے اس وقت غائب ہوئے جب میں ستائیس سال کا جوان تھا۔مگر میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے آپ سے بہتر ، آپ سے زیادہ خوش اخلاق، آپ سے زیادہ نیک، آپ سے زیادہ بزرگانہ شفقت رکھنے والا ، آپ سے زیادہ اللہ اور رسول کی محبت میں غرق رہنے والا کوئی شخص نہیں دیکھا۔آپ ایک نور تھے جو انسانوں کے لئے دنیا پر ظاہر ہوا اور ایک رحمت کی بارش تھے جو ایمان کی لمبی خشک سالی کے بعد اس زمین پر برسی اور ا سے شاداب کر گئی۔“ یہی میری بھی چشم دید شہادت ہے اور اسی پر میں اپنے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔(سیرت المہدی حصہ سوم کی آخری روایت کا ملخص ) اَللّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى مُطَاعِهِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكَ وَسَلِّمُ وَ آخِرُ دَعْوَانَا أَن الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ( محررہ 3 دسمبر 1959ء) روزنامه الفضل ربوہ 9-10-11 فروری 1960ء) 9 تَزَوَّجُوُا الْوَلُوْدَ الْوَدُوْدَ ایسی عورتوں کے ساتھ شادی کرو جو زیادہ اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں اور بہت محبت کرنے والی ہوں اس وقت پاکستان کے ایک طبقہ میں برتھ کنٹرول یعنی تحدید نسل کی طرف توجہ پیدا ہو رہی ہے۔میں نے اس کے متعلق ایک مختصر سا رسالہ ” خاندانی منصوبہ بندی کے نام سے لکھا ہے۔جس میں زیادہ تر اسلامی تعلیم کی روشنی میں اور کسی قدر اقتصادی اور سیاسی نکتہ نگاہ سے اس مسئلہ پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔دوستوں کو چاہئے کہ نظارت اصلاح وارشادر بوہ سے یہ رسالہ منگوا کر اسے خود بھی پڑھیں اور ملنے والوں کو بھی پڑھا ئیں تا کہ کسی وقتی رو میں بہہ کر کوئی غلط قدم نہ اٹھایا جائے۔جو بعد میں قومی نقصان اور ندامت کا موجب ہو۔یہ خدا کا فضل ہے کہ ہماری حکومت کی طرف سے اس معاملہ میں کوئی پابندی نہیں بلکہ وہ مخلصانہ جرح و تعدیل کو پسند کرتی ہے۔بے شک اس مسئلہ کے بعض پہلو بظاہر کچھ الجھے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن ہماری جماعت جو ایک بالکل نوزائیدہ جماعت ہے اور اپنی قومی زندگی کے بالکل ابتدائی مراحل میں سے گزر رہی ہے اس کے لئے تو