مضامین بشیر (جلد 4) — Page 440
مضامین بشیر جلد چهارم 440 وقت تو خصوصیت سے دل کی تکلیف کی وجہ سے زیادہ بیمار ہوں اس لئے صرف چند مختصری باتوں پر اکتفا کرتا ہوں۔اللہ تعالے سب مخلص دوستوں کو اس مبارک مہینے کی برکات سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دے اور دین و دنیا میں ترقی عطا کرے۔(1) رمضان کی اصل اور مخصوص عبادت تو روزہ ہے جس کے متعلق ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ روزہ وہ عبادت ہے جس کی جزاء خود خدا تعالیٰ ہے۔پس جن دوستوں کو رمضان میں بیماری یا سفر کی معذوری نہ ہو ان کو ضرور روزہ رکھ کر اس کی خاص بلکہ اخص برکات سے مستفید ہونا چاہئے مگر یا درکھنا چاہئے کہ روزہ صرف کھانے پینے سے اجتناب کرنے کا نام نہیں بلکہ اصل روزہ دل کی نیکی اور ضبط نفس اور تقویٰ اور اخلاص اور انابت الی اللہ اور خصوصی دعاؤں کا روزہ ہے جس کے نتیجہ میں انسان خدا کا قرب حاصل کرتا ہے اور زمین سے اٹھ کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچتا ہے۔(2) اس کے علاوہ رمضان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت تھی کہ قرآن مجید کی زیادہ تلاوت فرماتے تھے بلکہ اپنی پاک زندگی کے آخری سال میں آپ نے رمضان کے مہینہ میں قرآن مجید کی دو دفعہ تلاوت فرمائی۔پس دوستوں کو رمضان میں قرآن مجید کی تلاوت کی طرف بھی خاص توجہ دینی چاہئے۔قرآن غور کے ساتھ پڑھا جائے اور رحمت کی آیات پر خدا سے رحمت مانگی جائے اور عذاب کی آیات پر استغفار کیا جائے۔یہ ایک کامل ذکر الہی ہے۔(3) رمضان میں صدقہ و خیرات بھی حسب توفیق زیادہ سے زیادہ دینا چاہئے۔غرباء کی مدد میں مومنوں کے لئے بے حد برکات ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ آپ رمضان میں اس کثرت سے صدقہ و خیرات کرتے تھے کہ آپ کا ہاتھ گویا ایک تیز آندھی کی طرح چلتا تھا جو کسی روک کو خیال میں نہیں لاتی۔(4) رمضان کی ایک ممتاز عبادت تہجد یا تراویح کی نماز ہے جو مومنوں کی مُردہ راتوں کو زندہ کرنے اور انسان کو اس کے مقررہ مقام محمود تک اٹھانے میں نمایاں تاثیر رکھتی ہے اور رمضان کی عبادتوں کو غیر معمولی رونق بخشتی اور روحانیت کا ایک بڑا ستون ہے۔(5) پھر رمضان کی ایک خاص برکت اعتکاف کی عبادت ہے جو رمضان کے آخری عشرہ میں مسجد میں بیٹھ کر ادا کی جاتی ہے۔جن دوستوں کو توفیق ہو اور فرصت ہو وہ اس سے بھی فائدہ اٹھا کر اپنے دلوں میں روشنی اور جلا پیدا کر سکتے ہیں۔