مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 430 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 430

مضامین بشیر جلد چهارم میں ایک نئی زندگی پیدا ہو جائے گی۔کتبِ سلسلہ کے امتحانات کی طرف زیادہ توجہ کی ضرورت ہے 430 مجھے یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ کتب سلسلہ کے امتحانوں میں شریک ہونے والوں کی تعداد خدام میں بھی اور انصار میں بھی ابھی تک بہت کم ہے۔اس کا ایسا انتظام ہونا چاہئے کہ کوئی خواندہ ممبر انصاراللہ سوائے بیماری یا کسی اور سخت معذوری کے ایسے امتحان کی شرکت سے محروم نہ رہے۔یہ امتحان گویا ایک گھر یلو درس گاہ کا حکم رکھتا ہے اور ضروری ہے کہ ان امتحانوں میں انصار اللہ زیادہ سے زیادہ حصہ لیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ جو احمدی ہماری کتابوں کو کم از کم تین دفعہ نہیں پڑھتا اس میں مخفی رکبر کا مادہ پایا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے عمل سے ظاہر کرتا ہے کہ وہ ان علوم سے جو خدا نے ہمیں عطا کئے ہیں اپنے آپ کو غنی سمجھتا ہے۔ظاہر ہے کہ سلسلہ کی کتب کے مطالعہ کا یہ طریق ایک بڑا آسان اور سہل ہے مگر ضروری ہے کہ ہر سال یا ششماہی میں سوچ سمجھ کر عمدہ نصاب مقرر کیا جایا کرے اور پھر ہر خواندہ انصار اللہ کے ممبر کو جو کسی وجہ سے معذور نہ ہو مجبور کیا جائے کہ وہ اس امتحان میں شامل ہو۔دوستوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ صرف منہ سے مان لینا کوئی حقیقت نہیں رکھتا جب تک کہ دل کی کھڑکیاں صداقت کی روشنی کے لئے ہمیشہ کھلی نہ رکھی جائیں۔آئندہ نسل کی تربیت انصار اللہ کی خصوصی ذمہ داری ہے انصار اللہ پر ایک بڑی ذمہ داری اپنے بچوں کی تربیت کے متعلق بھی عائد ہوتی ہے۔اگر نئی نسل کو جنہوں نے براہ راست حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے نور حاصل نہیں کیا کسی خاص تربیتی پروگرام میں سے نہ گزارا جائے تو ان کے متعلق ہمیشہ اندیشہ رہے گا کہ وہ آہستہ آہستہ اُس ہدایت کے مرکزی نقطہ سے ہٹ جائے گی جو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نازل فرمائی ہے۔جن لوگوں نے براہ راست حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت سے نور حاصل کیا وہ دراصل پیوندی درختوں کی طرح ہیں جو ہر صورت میں اپنے اصل پودا کا ورثہ حاصل کرتا ہے اور اسی قسم کا شیریں پھل پیدا کرتا ہے۔مگر بعد میں آنے والے لوگ تخمی پودے ہوتے ہیں جن میں سے کوئی اچھا نکلتا ہے اور کوئی خراب نکلتا ہے۔پس موجودہ نسل کے تخمی پودوں کو اچھا بنانے اور ان سے اچھا پھل حاصل کرنے کے لئے یہ بات از بس ضروری ہے کہ ان کے لئے نیک صحبت مہیا کی جائے۔قرآن مجید نے بار بار مختلف طریق پر اس نصیحت کی تکرار فرمائی ہے کہ كُونُوا مَعَ