مضامین بشیر (جلد 4) — Page 405
مضامین بشیر جلد چهارم ایسا ہی ہو اور انشاء اللہ ایسا ہی ہوگا۔(محرره 19 اکتوبر 1962ء) 405 ( روزنامہ الفضل 24 اکتوبر 1962 ء وماہنامہ مصباح نومبر 1962ء)۔۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے متعلق میری دعائیہ تحریک کچھ عرصہ ہوا کہ میں نے برکات خلافت کے لہا ہونے کے متعلق جماعت میں دعا کی تحریک کی تھی اور اس تحریک کے ضمن میں یہ بھی لکھا تھا کہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالے کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہاموں میں جتنی علامات بتائی گئی تھیں وہ خدا کے فضل سے سب کی سب پوری ہوگئی ہیں اس لئے اب یہ دعا کسی علامت کے پورا ہونے کے لئے نہیں بلکہ برکات خلافت کے لمبا ہونے کے لئے ہے۔میرے اس نوٹ پر اُس غیر معمولی محبت کی وجہ سے جو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی ذات والا صفات کے ساتھ مخلصین جماعت کے دلوں میں ہے کئی دوستوں کے دلوں میں مختلف قسم کے وہم پیدا ہونے شروع ہو گئے اور یہ حقیقت پھر ایک دفعہ رونما ہوگئی۔عشق است و ہزار بدگمانی دراصل دوستوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ دعا دو غرض سے کی جاتی ہے۔ایک غرض یہ ہوتی ہے کہ جو نیک مقصد کسی فرد یا جماعت کے سامنے ہے یا کسی پیشگوئی میں بتایا گیا ہے وہ اسے حاصل ہو جائے اور پھر جب وہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے تو اس کے بعد دعا کی غرض یہ ہوتی ہے کہ جو برکات اس مقصد کے حصول کے ساتھ وابستہ ہیں وہ جلدی ختم نہ ہو جائیں بلکہ ان کا زمانہ لمبے سے لمبا چلتا چلا جائے۔پس اپنے گزشتہ مضمون میں میری تحریک کی غرض یہی مؤخر الذکر غرض تھی یعنی یہ کہ جب خدا کے فضل سے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے وجود میں تمام الہامی علامات پوری ہو چکی ہیں تو اب یہ دعا کرنی چاہئے کہ حضور کی خلافت کے برکات کا زمانہ لمبے سے لمبا چلے تا کہ جماعت حضور کے فیوض سے تادیر متمتع ہوتی رہے۔میرےنوٹ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی ) کا ذکر صرف ایک علمی نکتہ کے اظہار کی غرض سے تھا اور وہ یہ کہ ایک نبی اور رسول دنیا میں ایک بیج بونے کے لئے آتا ہے اس لئے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے جب یہ پیج کامیابی کے ساتھ بویا جا چکتا ہے تو اللہ تعالے کی یہ سنت ہے کہ پھر اپنے نبی کو اپنے پاس واپس بلا لیتا ہے۔مگر خلافت کا معاملہ جدا گانہ ہے۔کیونکہ خلفاء کوئی بیج بونے کے لئے